کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں بارش کے بعد کئی ’’برساتی مینڈک‘‘ سامنے آ گئے ہیں جو افواہیں پھیلانے میں مصروف ہیں۔
بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے یومِ وفات کے موقع پر مزارِ قائد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان، قائداعظم کی انتھک جدوجہد کا ثمر ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کے اصول ایمان، اتحاد اور قربانی کو اپنا کر ملک کو ایک حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنایا جائے۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر سابق وزرائے اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے پاکستان کے دفاع اور ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی حالیہ جارحیت کا جواب مسلح افواج اور عوام نے یکجہتی سے دیا اور یہی اتحاد ہماری اصل طاقت ہے۔
کشمیری و فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی
مراد علی شاہ نے بھارتی مظالم اور فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں اور شہریوں پر بمباری کرنے والا اسرائیل، مسلم دنیا کی یکجہتی کے باعث ضرور ناکام ہوگا۔
سندھ میں سیلابی صورتحال
سیلابی ریلوں پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ سمیت کئی علاقے متاثر ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح انسانی جانوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ بیراجوں اور بندوں کو بچانا ہے۔ انہوں نے کچے کے علاقوں میں رہنے والوں سے اپیل کی کہ وہ حکومت کی ہدایات پر عمل کریں تاکہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر فوری ریلیف سرگرمیاں شروع کر دی گئی ہیں، زرعی اور ماحولیاتی ایمرجنسی نافذ کی جا رہی ہے اور عالمی برادری سے امداد کے حصول کے لیے فلیش اپیل بھی کی جائے گی۔
کراچی میں اربن فلڈنگ پر ردعمل
اربن فلڈنگ کے حوالے سے تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ بارش کے بعد برساتی مینڈک افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ ایسے عناصر لسانی اور سیاسی تقسیم پیدا نہ کریں کیونکہ قوم پہلے ہی اس کی بھاری قیمت ادا کر چکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اور عوامی نمائندے بارش اور سیلاب کے دوران سڑکوں پر موجود رہے اور ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ کوتاہیاں ضرور ہوئیں مگر ان پر قابو پانے کی کوشش جاری ہے۔
پانی سے متعلق منصوبے
وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہر اس منصوبے کی حمایت کرے گی جو غیر متنازع ہو اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔