پاکستان نے افغان مہاجرین کی باعزت اور منظم وطن واپسی کے لیے جاری اقدامات کے ذریعے عالمی سطح پر ایک مثالی مثال قائم کر دی ہے۔
وفاقی و صوبائی حکومتوں کے مابین مکمل ہم آہنگی کے ساتھ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل جاری ہے، جس میں فرنٹیئر کور (ایف سی) اور سول انتظامیہ کا کلیدی کردار ہے۔ ان اداروں کی کاوشوں سے وطن واپسی کا یہ عمل شفاف، منظم اور مؤثر انداز میں جاری ہے۔ذرائع کے مطابق، 45 سال پاکستان میں گزارنے والے افغان مہاجرین نے سرحد پار کرتے وقت اپنے جذبات کا بھرپور اظہار کیا اور کہا کہ وہ کسی دباؤ کے بغیر، اپنی مرضی سے وطن واپس جا رہے ہیں۔افغان مہاجرین نے حکومتِ پاکستان اور ایف سی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خوراک، رہنمائی اور سرحد تک سامان کی ترسیل میں بھرپور تعاون فراہم کیا گیا۔ ان کے مطابق، پاکستان میں قیام کے دوران انہیں کبھی اجنبی محسوس نہیں ہونے دیا گیا۔
ایک افغان بزرگ کے بقول، "ہم نے بلوچستان میں 40 سال گزارے، پاکستان نے ہمیں عزت اور اپنائیت دی، اب بہترین یادوں کے ساتھ وطن لوٹ رہے ہیں۔"سرکاری حکام کے مطابق، حکومت افغان مہاجرین کو سرحد تک سہولت، خوراک اور ضروری سامان کی فراہمی یقینی بنا رہی ہے تاکہ ان کی پروقار اور محفوظ واپسی ممکن بنائی جا سکے۔بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، پاکستان کا یہ اقدام مہاجرین کے انسانی حقوق اور احترام کے حوالے سے ایک مثالی اور قابلِ تقلید ماڈل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔