ویب ڈیسک: اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ اگر غزہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد نہ ہوا اور ان کی شرائط پوری نہ کی گئیں تو وہ دوبارہ جنگ شروع کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔
نیتن یاہو نے اپنے بیانات میں کہا کہ چاہے امن ڈیل برقرار رہے یا نہ رہے، حماس کو غیر مسلح کرنا ان کا عزم ہے اور غزہ کو ڈیملیٹرائزڈ (غیر فوجی) علاقہ بنایا جائے گا۔ ان کا موقف ہے کہ حماس کے پاس ہتھیار رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔دوسری جانب حماس نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ ہتھیار چھوڑنے کے لیے تیار نہیں، اور اس بیانیے نے خطے میں کشیدگی برقرار رکھنے کا خدشہ بڑھا دیا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر معاہدے کے فریم ورک میں ناکامی ہوئی تو دونوں طرف سے شعلہ ور ہونے کا خطرہ موجود ہے، اور خطے میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی سفارتی کوششوں کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔