اسرائیلی یرغمالیوں کے والدین نے وزیراعظم نیتن یاہو کو لکھے گئے خط میں شدید احتجاج کیا ہے اور حکومت کو انتباہ دیا ہے کہ ان کے بچوں کی تصویریں سیاسی مفادات اور جنگ کو طول دینے کے لیے استعمال نہ کی جائیں۔
7 اکتوبر 2023 کو غزہ کی سرحد سے حماس کے قبضے میں لیے گئے اسرائیلی شہریوں کے والدین نے ایک خط کے ذریعے کہا کہ حکومت نے گزشتہ ایک سال میں کروڑوں شیکل ایسی مہمات پر خرچ کیے جن میں ان یرغمالیوں کی تصاویر بطور سیاسی حربہ استعمال کی گئیں۔ ابتدائی طور پر یہ تصاویر شعور اُجاگر کرنے کے لیے تھیں، لیکن اب یہ جنگ کو طول دینے اور عوامی حمایت حاصل کرنے کا ذریعہ بن گئی ہیں۔والدین نے الزام عائد کیا کہ حکومت جنگ کو طویل کر رہی ہے تاکہ سیاسی حمایت برقرار رکھی جا سکے، جبکہ 58 یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کوئی سنجیدہ یا فیصلہ کن قدم نہیں اٹھایا گیا۔
انہیں اپنے ملک کی حفاظت پر اعتماد نہیں رہا اور اب وہ غیر ملکی سفارتی شخصیات جیسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسٹیو وٹکوف اور ایڈم بوہلر پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں تاکہ مسئلے کا کوئی حل نکالا جا سکے۔خط میں والدین نے خبردار کیا کہ غزہ میں بڑھتے ہوئے فوجی دباؤ سے یرغمالیوں کی جانوں کو شدید خطرہ لاحق ہے، لہٰذا وہ اپنے بچوں کی تصاویر کو حکومت کی تشہیری مہم میں استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اگر حکومت مکمل جنگ بندی اور یرغمالیوں کی محفوظ واپسی کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کرے تو وہ قانونی اور عوامی سطح پر مزید احتجاج کریں گے۔
خط کے آخر میں والدین نے واضح کیا کہ یہ ان کی آخری حد ہے اور صرف باتیں کرنا اب کافی نہیں، یرغمالیوں کو فوری طور پر واپس لایا جائے۔