افغانستان کے وزیرِ خارجہ ملا امیر متقی نے ایک بار پھر پاکستان مخالف بیانیہ اختیار کرتے ہوئے افغانستان میں ہونے والے حالیہ دھماکوں کا الزام پاکستان پر عائد کر دیا ہے۔
حیران کن امر یہ ہے کہ انہوں نے یہ بیان بھارت میں موجودگی کے دوران دیا — یعنی ایسے ملک میں جہاں پاکستان کے خلاف پہلے ہی منفی مہمات چلائی جا رہی ہیں۔جمعرات کے روز بعض بھارتی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ملا متقی نے بغیر کسی ثبوت کے یہ دعویٰ کیا کہ افغانستان میں ہونے والے حالیہ دھماکے ’’پاکستان کی غلطی‘‘ تھے۔ تاہم ان دھماکوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔دوسری جانب طالبان حکومت کے ترجمان نے بھی ایک بیان میں ڈیورنڈ لائن کے قریب ہونے والے مبینہ دھماکوں کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کی، لیکن کوئی ثبوت یا تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ذرائع کے مطابق ملا امیر متقی اس وقت بھارت کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کی۔ ملاقات میں بھارت نے افغانستان میں موجود اپنے ’’تکنیکی مشن‘‘ کو سفارت خانے کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا — جو نئی دہلی اور کابل کے درمیان تعلقات کی بحالی کی جانب ایک بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملا متقی کا بیان نہ صرف پاکستان کے ساتھ تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر سکتا ہے بلکہ یہ بھارتی مؤقف کے ساتھ ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے، جو خطے میں اسلام آباد کے کردار کو محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔