عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کمیٹی نے طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی پر عائد سفری پابندی کو وقتی طور پر معطل کر دیا ہے، جس کے بعد ان کے بھارت کے دورے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
یہ دورہ 9 سے 16 اکتوبر کے درمیان متوقع ہے۔اگر یہ دورہ طے شدہ پروگرام کے مطابق مکمل ہو جاتا ہے تو یہ 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کسی اعلیٰ افغان عہدیدار کا بھارت کا پہلا دورہ ہوگا۔ طالبان کے افغانستان میں اگست 2021 میں دوبارہ برسرِاقتدار آنے سے قبل بھارت کے افغان حکومت سے قریبی تعلقات رہے ہیں، تاہم طالبان حکومت کے قیام کے بعد بھارت نے کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا۔ بعد ازاں انسانی ہمدردی کی امداد کے لیے محدود سطح پر ایک تکنیکی مشن دوبارہ کھولا گیا۔رپورٹس کے مطابق، امیر خان متقی بھارت روانگی سے قبل روس میں ہونے والے ایک کثیرالجہتی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، جس میں روس، چین، ایران، پاکستان، بھارت اور وسطی ایشیائی ممالک کے نمائندے افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے۔
افغان تجزیہ کار حکمت اللہ حکمت کے مطابق، طالبان وزیر خارجہ کا یہ دورہ حکومت کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ افغانستان کو خطے کے ممالک سے سیاسی، اقتصادی اور تجارتی روابط بڑھانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ عالمی سطح پر اپنی حیثیت مستحکم کر سکے۔اب تک صرف روس نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے، جبکہ بھارت ابھی بھی احتیاط کے ساتھ محدود سطح پر روابط رکھے ہوئے ہے۔