تحریک انصاف اور سنی اتحاد کونسل کے ارکان چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے،ترمیم کے خلاف نعرے لگائے، کاپیاں پھاڑ دیں ، اجلاس کا واک آئوٹ کرکے چلے گئے

27ویں ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور فیلڈ مارشل، ایئر مارشل اور ایڈمرل کو آرٹیکل 47 کے بغیر نہیں ہٹایا جا سکے گا
آرٹیکل 243 کی 2 شقوں میں ترمیم منظور، فیلڈ مارشل کو قانونی استثنی حاصل، وردی اور مراعات تاحیات حاصل ہوں گی‘ ، صدر مملکت کو  بھی تاحیات گرفتار نہ کرنے کی شق کثرت رائے سے منظور کرلی گئی
ترمیم کی حمایت میں 64  ووٹ ڈالے گئے‘ مخالفت میں کوئی ووٹ نہ ڈالا گیا‘بی این پی کی سینیٹر نسیمہ احسان نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیایہ تاریخی بل تھا جو میثاق جمہوریت کا ایک اہم حصہ تھا:نائب وزیراعظم
اسلام آباد (آئی این پی‘آن لائن)ملکی ایوان بالا (سینیٹ)نے 27 ویں آئینی ترمیم منظور کرلی۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ میں آئینی ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک پیش کی۔تحریک پیش کرنے کے دوران پی ٹی آئی ارکان نے چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے احتجاج کیا۔پی ٹی آئی کے سیف اللہ ابڑو نشست پر بیٹھے رہے اور احتجاج میں شریک نہیں ہوئے۔ستائیسویں آئینی ترمیمی پیش کرنے کی تحریک پر ایوان میں ووٹنگ ہوئی تو سیف اللہ ابڑو آئینی ترمیم پیش کرنے کی تحریک کے حق میں کھڑے ہوئے۔اس کے علاوہ جے یو آئی کے احمد خان بھی تحریک کے حق میں کھڑے ہو ئے۔ 64 ارکان سینیٹ نے ستائسیویں آئینی ترمیم کی 59 شقوں کی مرحلہ وار منظوری دی۔ سینیٹ ارکان نے نشستوں سے کھڑے ہوکر ووٹنگ میں حصہ لیا۔اس کے بعد  27 ویں آئینی ترمیمی بل سینیٹ سے حتمی منظوری کیلئے پیش کیا گیا، آئینی ترمیمی بل منظوری کیلئے اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا۔سینیٹ اراکین نے 27 ویں ترمیم کے حق یا مخالفت میں لابیز میں جا کر ووٹ دیا اور یوں 64 ارکان نے ترمیمی بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہ آیا۔رپورٹ کے مطابق  آئین کے آرٹیکل 243 کی دو شقوں 4 اور 7 میں نئی ترامیم کی گئی ہیں۔ آرٹیکل 243 کی شق 4 اور 7 میں ترمیم کے تحت چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے کا نام تبدیل کر کے کمانڈر آف ڈیفنس فورسزکردیا گیا ہے۔ترمیم کے مطابق صدر مملکت وزیراعظم کے تجویز پر ایئر چیف اور نیول چیف کی طرح کمانڈ رآف ڈیفنس فورسز کا تقرر کرینگے جبکہ جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ 27نومبر 2025 سے ختم تصور کیا جائیگا۔اس کے علاوہ وزیر اعظم آرمی چیف کی سفارش پر کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا تقرر کرینگے اور یہ پاکستان آرمی کے ارکان میں سے ہوگا جس کی تنخواہ اور الانسز مقرر کیے جائیں گے۔وفاقی حکومت فوجی افسر فیلڈ مارشل، ایئر مارشل یا ایڈمرل چیف کو رینک پرترقی دے دی جس کے بعد وردی، اور مراعات تاحیات رہیں گی جبکہ فیلڈ مارشل، ایئر مارشل اور ایڈمرل چیف کو بطور قومی ہیروز تصورکیا جائے گا اور تینوں کو آرٹیکل 47 کے بغیر نہیں ہٹایا جا سکے گا۔ترمیم کے مطابق وفاقی حکومت فیلڈ مارشل، ایئر مارشل اور ایڈمرل چیف کی ذمہ داریوں اور امور کا تعین کرے گی جبکہ فیلڈ مارشل کو آرٹیکل 248کے تحت قانونی استثنی حاصل ہوگا۔ صدر مملکت کو 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے تاحیات استثنی دینے کی ترمیم کثرت رائے سے منظور کرلی۔آئینی ترمیم کی حمایت میں 64 ووٹ جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں ڈالا گیا، پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو اور بی این پی کی سینیٹر نسیمہ احسان نے ترمیم کے حق میں ووٹ دیا۔