قومی اسمبلی اجلاس : اپوزیشن کا احتجاج‘ ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں‘نعرے بازی

اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کی صحافی کے ساتھ بدسلوکی  کیخلاف قرارداد کثرت رائے سے منظور‘سنی اتحاد کونسل نے قرارداد کی مخالفت کی
دہشتگردوں کے حق میں بات نہیں کرنے دونگاآپ جب 2002میں دھاندلی کر رہے تھے آرمی اس وقت بھی قربانی دے رہی تھی:سپیکر
اسلام آباد(آن لائن)قومی اسمبلی کے اجلاس میں اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کی صحافی کے ساتھ بدسلوکی پہ قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی گئی جبکہ سنی اتحاد کونسل نے قرارداد کی مخالفت کی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں منعقد ہوا َ۔ اجلاس میں اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کی صحافی کے ساتھ بدسلوکی پہ قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی گئی۔ جبکہ سنی اتحاد کونسل نے قرارداد کی مخالفت کی۔ اجلاس میں پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آپ آج قرارداد روک دیں جس پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ قرارداد تو آج آئے گی، آپ اس وقت خوارج کے لیے نعرے بازی کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سینئر صحافی اعجاز احمد کے ساتھ بہت برا سلوک ہوا ہے ان کو برا بھلا کہا گیا، جو سب سے کم درجے کے الفاظ تھے وہ بکواس بند کرو تھے آپ یا تو دہشت گردوں کی حمایت میں کھل کے سامنے آئیں۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ میں یہاں کسی کو دہشت گردوں کے حق میں بات نہیں کرنے دوں گاآپ جب 2002میں الیکشن میںدھاندلی کر رہے تھے آرمی اس وقت بھی قربانی دے رہی تھی‘اجلاس کے آغاز پر دہشت گردی کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہونے والے جوانوں، مختلف جماعتوں کے ارکانِ اسمبلی کے عزیز و اقارب اور سیلاب میں جاں بحق ہونے والوں کے لئے دعائے مغفرت کی گئی۔ دعا مولانا عبدالغفور حیدری نے کرائی۔جبکہ پارلیمنٹری رپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے سینئر صحافی اعجاز احمد کے ساتھ بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی بدتمیزی کے خلاف قومی اسمبلی پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا۔قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اور شدید نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاج جاری رکھا۔