عمرایوب کو پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کی اجازت دینے سے انکارپرپی ٹی آئی ارکان نے احتجاج شروع کردیا،شورشرابے میںوقفہ سوالات جاری رہا
وزارتِ داخلہ کے افسران کے گیلری میں موجود نہ ہونے پر سپیکرایاز صادق کا برہمی کا اظہار ،ڈی جی سی ڈی اے کے موجود ہونے پر تعجب کا اظہار
اسلا م آباد (آئی این پی )قومی اسمبلی کے بدھ کو سپیکر ایاز صادق کی صدرارت میں ہونے والے اجلاس میں ایک بار پھراپوزیشن نے شور شرابہ شروع کر دیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔اپوزیشن اراکین کے نعروں سے ایوان گونج اٹھا۔اجلاس شروع ہوا تواپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کے لیے سپیکر سے درخواست کی جس پر سپیکر نے وقفہ سوالات میں پوائنٹ آف آرڈر کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ تحریکِ انصاف کے ارکان نے بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاج شروع کر دیا۔سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ ہائوس بزنس ایڈوائزری میں طے ہوا تھا کہ نکتہ اعتراض وقفہ سوالات کے دوران نہیں ہو گا، وقفہ سوالات کے دوران نکتہ اعتراض کی اجازت نہیں دوں گا، یہی چیز ہاوس بزنس میں طے ہوئی تھی۔اپوزیشن کے شور شرابے کے دوران وقفہ سوالات جاری رہا، اس موقع پر اپوزیشن اراکین نے ایجنڈے کے کاپیاں پھاڑ دیں۔وزارتِ داخلہ کے سوالات کے جوابات نہ آنے پر سپیکر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزارت داخلہ سے کون افسر آیا ہے؟۔وزارتِ داخلہ کے افسران کے گیلری میں موجود نہ ہونے پر سپیکر قومی اسمبلی نے برہمی کا اظہار کیا اور ڈی جی سی ڈی اے کے موجود ہونے پر تعجب کا بھی اظہار کیا۔اجلاس میں وزارتِ داخلہ کے سینئر افسر بھی پہنچ گئے، جس پرایاز صادق نے سوال کیا کہ آپ اب آ رہے ہیں؟ وزارتِ داخلہ کے افسر نے بتایا کہ نماز پڑ