صدر ٹرمپ کی قیادت اور خطے میں امن کیلئے فعال کردار کیلئے شکریہ ادا کرتے ہیں‘ پاکستان اس موقع پر سہولت فراہم کرنے پر امریکہ کو سراہتا ہے‘نائب صدر نے بھی علاقے میں امن کیلئے خدمات انجام دیں:وزیراعظم کا ایکس پر پیغام
وزیراعظم شہباز شریف کی صدر آصف علی زرداری سے ملاقات، پاک بھارت کشیدگی کی صورتحال پربات چیت کی گئی‘شہباز شریف کے بلاول بھٹواور سیاسی رہنمائوں سے رابطے، بھارت کیخلاف آپریشن پر اعتماد میں لیا
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘ایجنسیاں)وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا ہے۔سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے لکھا ہم صدر ٹرمپ کی قیادت اور خطے میں امن کے لیے فعال کردار کے لیے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ پاکستان اس موقع پر سہولت فراہم کرنے پر امریکہ کو سراہتا ہے اور ہم نے جنگ بندی کو علاقائی امن اور استحکام کے مفاد میں قبول کیا ہے۔وزیراعظم نے نائب امریکی صدر صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جنوبی ایشیا میں امن کے لیے ان کی گرانقدر خدمات انجام دیں۔ پاکستان کا خیال ہے کہ جنگ بندی مسائل کے حل میں ایک نئی شروعات کی نشاندہی ہے، جس کے بعد امن، خوشحالی اور استحکام کا سفر شروع ہوگا۔دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے اہم ملاقات کی، جس میں پاک بھارت کشیدگی اور موجودہ جنگی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے صدر مملکت کو بھارت کی جانب سے جاری جارحیت اور پاکستان کے جوابی آپریشن کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنمائوں نے قومی سلامتی، خطے کی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی۔وزیراعظم نے صدر مملکت کو بتایا کہ پاکستان نے بھارت کی جانب سے کی گئی اشتعال انگیزیوں کا بھرپور اور موثر جواب دیا ہے اور قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں‘وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ٹیلیفون پر گفتگو میں آپریشن بنیان مرصوص کی صورت میں جوابی کارروائی کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ شہباز شریف نے سیاسی رہنمائوں سے رابطے کرکے بھارت کیخلاف آپریشن پر اعتماد میں لیا ۔ شہباز شریف نے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن، ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی، خالد مگسی اور چوہدری سالک حسین کو فون اور بھارت کیخلاف جوابی کارروائی کے سلسلے میں اعتماد میں لیا۔وزیراعظم نے ملکی سیاسی قیادت کو بھارت کے حملے، پیش آنے والی صورت حال اور بھارت کو دیئے جانے والے جواب کی تفصیلات سے آگاہ کیا