برطانیہ پاکستان اور بھارت سے دوستانہ سفارتی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں امن کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرے:وزیراعظم‘ علاقائی امن و سلامتی کیلئے پاکستان اور بھارت کے ساتھ مل کر کام کریں گے:برطانوی ہائی کمشنر
پہلگام واقعے کے پس پردہ حقائق کا پتہ لگانے کے لئے بین الاقوامی شفاف، غیر جانبدار اور معتبر تحقیقات کرائی جائیں،بھارتی رویہ جنوبی ایشیاء میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے:شہبازشریف کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات میں گفتگو
اسلام آباد(آئی این پی)وزیراعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات ہوئی۔ملاقات میں وزیراعظم نے برطانوی ہائی کمشنر کو پہلگام واقعے کے بعد جنوبی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔کوئی ثبوت فراہم کیے بغیر اس واقعے سے پاکستان کو جوڑنے کی بھارت کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے وزیر اعظم نے واقعے کی اعلی سطح کی شفاف اور غیر جانبدار بین الاقوامی تحقیقات کی اپنی پیشکش کا اعادہ کیا اور برطانیہ کو اس میں شمولیت کی دعوت دی۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک کی اقتصادی ترقی ہے اور پاکستان کبھی بھی ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھائے گا جس سے علاقائی امن و سلامتی کو خطرہ ہو۔شہباز شریف نے کہا کہ برطانیہ پاکستان اور بھارت سے اپنے دوستانہ سفارتی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں امن کی کشیدہ صورتحال کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔برطانوی ہائی کمشنر نے پاکستان کے موقف سے آگاہ کرنے پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ برطانیہ علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان اور بھارت کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔دریں اثناء وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کی ملاقات ہوئی۔وزیراعظم نے ایران کے شہر بندر عباس میں ہونے والے المناک دھماکے کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع اور سیکڑوں افراد کے زخمی ہونے پر ایرانی وزیر خارجہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔شہباز شریف نے پہلگام واقعے کے بعد سے ہندوستان کے اشتعال انگیز رویے کے نتیجے میں جنوبی ایشیا میں موجودہ کشیدگی پر پاکستان کی شدید تشویش کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان کو واقعے سے جوڑنے کی کسی بھی کوشش کو واضح طور پر مسترد کر دیا، پاکستان نے پیشکش کی ہے کہ پہلگام واقعے کے پس پردہ حقائق کا پتہ لگانے کے لیے بین الاقوامی شفاف، غیر جانبدار اور معتبر تحقیقات کرائی جائیں۔شہباز شریف نے کہا کہ اس تمام صورتحال میں پاکستان نے انتہائی ذمہ داری سے کام لیا ہے جبکہ دوسری طرف بھارت نے جموں و کشمیر کے تنازع سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے میڈیا کے ذریعے پراپیگنڈا شروع کر رکھا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی رویہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے، وزیراعظم نے زور دیا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا اور اسے آبی جارحیت کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے، پانی پاکستانی عوام کے لیے ریڈ لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عراقچی نے ایرانی قیادت کی طرف سے وزیراعظم کو تہنیتی پیغام پہنچایا، ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ایران کے عزم کا اعادہ کیا۔ایرانی وزیرخارجہ نے صدر پیزشکیان کی طرف سے وزیراعظم کو اس سال کے دوران ایران کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت کا بھی اعادہ کیا۔