بحرین میں ایرانی حملوں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے الزام میں پانچ پاکستانی شہری اور ایک بنگلہ دیشی شہری کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
گرفتار شدگان میں محمد معز اکبر، افضل خان، احمد ممتاز، ارسلان علی ساجد، اور عبدالرحمان عبدالستار شامل ہیں، جبکہ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے فرد کا نام محمد اسرافیل میر بتایا گیا ہے۔بحرینی وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق ملزمان نے ایرانی حملوں کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کیں، جس سے ’دشمنی کے اقدام سے ہمدردی ظاہر کرنے اور اسے بڑھا چڑھا کر پیش کرنے‘ کا خدشہ پیدا ہوا، اور ملک میں امن و امان اور سلامتی متاثر ہونے کی صورت اختیار ہو سکتی تھی۔ یہ ویڈیوز سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلائی گئی تھیں، جس سے شہریوں میں خوف اور گمراہی پیدا ہونے کا امکان تھا۔تمام ملزمان کو پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ بحرین میں پاکستانی سفارتخانے نے مقیم پاکستانیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سکیورٹی سے متعلق کسی بھی واقعے کی ویڈیو یا تصاویر بنانے اور شیئر کرنے سے گریز کریں، کیونکہ بحرین میں ایسا کرنا قانوناً جرم ہے اور اس پر سخت سزائیں ہو سکتی ہیں۔
بحرینی حکام نے عوام کو خبردار کیا کہ کسی میزائل کے ملبے یا حملے کے مقام کی تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرنا حساس معلومات افشا کر سکتا ہے اور سکیورٹی کارروائیوں میں خلل ڈال سکتا ہے۔رپورٹس کے مطابق خطے کے دیگر ممالک میں بھی اسی نوعیت کے اقدامات کیے گئے ہیں:قطر میں ایرانی حملوں کی ویڈیوز کے ذریعے مبینہ طور پر گمراہ کن معلومات پھیلانے پر 300 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے۔کویت میں بھی اسی طرح کے الزامات پر تین افراد کو حراست میں لیا گیا۔یہ اقدام خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اطلاعات کی درستگی اور عوامی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔