بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئربیس پر ایرانی ڈرون حملے کا دعویٰ، تہران کی مزید سخت کارروائی کی دھمکی

بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئربیس پر ایرانی ڈرون حملے کا دعویٰ، تہران کی مزید سخت کارروائی کی دھمکی

تہران: ایرانی فوج نے بحرین میں واقع شیخ عیسیٰ ایئربیس پر ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

 ایرانی فوج کے مطابق کارروائی کے دوران ایئربیس کی ریڈار تنصیبات اور ان علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جہاں امریکی فوجیوں کی مبینہ موجودگی تھی۔ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شیخ عیسیٰ ایئربیس پر یہ حملے فوجی مہم ’’آپریشن تھنڈر‘‘ کے 29ویں مرحلے کے تحت کیے گئے۔ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں میں ایئربیس کے اہم فوجی اور نگرانی سے متعلق نظام کو نشانہ بنایا گیا۔ تہران کے مطابق کارروائی کا مقصد امریکی فوجی سرگرمیوں سے منسلک تنصیبات کو نقصان پہنچانا تھا۔

شیخ عیسیٰ ایئربیس کی اہمیت
ایرانی فوج کے مطابق بحرین میں واقع شیخ عیسیٰ ایئربیس خلیجی خطے میں امریکا کے اہم فوجی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ ایرانی دعوے کے مطابق اس اڈے پر ہیلی کاپٹروں کی مرمت اور دیکھ بھال، ڈرونز سے متعلق سامان اور جاسوس طیاروں سے متعلق مختلف فوجی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔ایران کا مؤقف ہے کہ خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات اس کی نظر میں اہم فوجی اہداف ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

ایران کی سخت وارننگ
ایرانی فوج نے اپنے بیان میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کو خبردار بھی کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اگر مستقبل میں ایران کے خلاف مزید حملے کیے گئے تو ان کے جواب میں مزید وسیع اور تباہ کن کارروائی کی جائے گی۔ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی مسلح افواج کسی بھی نئی کارروائی کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں اور دشمن کی جانب سے حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کا دائرہ مزید وسیع کیا جاسکتا ہے۔

حملے کے نقصانات کی آزادانہ تصدیق نہیں
تاہم، ایرانی فوج کی جانب سے شیخ عیسیٰ ایئربیس پر ڈرون حملے کے دعوے کے باوجود حملے سے ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصانات کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے آنا ضروری ہے۔ اسی طرح امریکی یا بحرینی حکام کی جانب سے اس مخصوص حملے کے بارے میں تفصیلی مؤقف سامنے آنے تک ایرانی دعوے کو دعویٰ ہی سمجھا جائے گا۔بحرین میں امریکی فوجی موجودگی کے باعث شیخ عیسیٰ ایئربیس خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اگر حملے کی مزید تصدیق ہوتی ہے تو یہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے مزید خلیجی ممالک تک پھیلنے کی ایک اہم پیش رفت تصور کی جاسکتی ہے۔