راولپنڈی (آئی این پی )چیئر مین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے حکومت نے ہمارے مطالبات کے باوجود اپنی پالیسی اسٹیٹمنٹ نہیں دی، خیبرپختونخوا کے لوگ مخلص ہیں اور کہیں کوئی پناہ گاہ موجود نہیں ہے۔ ہم نے افغانستان کو کہا تھا پراکسی نہ بنے، ایران پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔اڈیالہ روڈ داہگل ناکہ پر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ ہمیں یہ میسج دیا گیا تھا کہ وزیر اعظم جب اسمبلی آئیں گے تو ملاقات ہو جائے گی، ، ملاقاتیں ہو یا مذاکرات اس میں سنجیدگی ضروری ہے، مذاکرات پر کوئی شرائط نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بطور پارٹی ایران سے درخواست کی ہے کہ مسلم ممالک کو نشانہ نہ بنائے دشمن چاہتا ہے ہم آپس میں لڑیں، ہم نے تو صرف یہ کہا تھا کہ افغانستان کے لوگوں کو تھوڑا سا وقت دیجیئے تاکہ یہاں سے جا سکیں،نیشنل ایکشن پلان کے چودہ نکات پر من و عن عمل ہونا چاہیے ۔بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ اس وقت کی صورتحال میں انڈیا افغانستان کے پیچھے کھڑا ہے، ایک ملک کے اگر پانچ قونصلیٹ ہیں تو سب ایک جیسے ہوتے ہیں، قونصلیٹ کی آڑ میں بھارت دہشتگردی کروا رہا ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اگر انصاف کے مطابق فیصلے ہوتے تو ابھی تک بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہو چکی ہوتی