مجھے ملک سے کیوں نکالا؟ کیوں جیلوں میں ڈالا گیا‘قصور عوام کا بھی ہے:نوازشریف
ووٹ دیں یا نہ دیں، ہم آپکی خدمت کریں گے‘ گلگت کی موجودہ حالت دیکھ کر شدید دکھ ہوا ‘ یہاں کے عوام میرے دل کے قریب ہیں‘ جن حکومتوں کو اقتدار ملا، انہوں نے اس علاقے کی ترقی پر توجہ کیوں نہیں دی
میں کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا، ہم اپنی کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں‘مسلم لیگ ن جیت گئی تو تین ماہ بعد گلگت بلتستان کا دورہ کیا کروں گا‘ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے:انتخابی جلسہ سے خطاب
گلگت (یواین پی‘آئی این پی)مسلم لیگ (ن )کے صدر نواز شریف نے کہاہے گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا، گلگت بلتستان میں منصوبے شروع ہوتے ہیں اور ختم ہونے کا نام نہیں لیتے، ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہاکہ جب میں وزیراعظم تھا تو کئی بار اسکردو اور گلگت گیا تھا، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے؟ میں چاہتا تھا کہ گلگت میں بہت ترقی ہو، گلگت میں سڑکوں پر کھڈے دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔انہوں نے پوچھا کہ مانسہرہ سے گلگت تک روڈ بننی تھی، کیوں نہیں بنی، مجھے کوئی بتا سکتا ہے کہ گلگت کی سڑک کیوں نہیں بنی؟ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔انہوں نے کہا میں وہ نوا زشریف ہوں جو کسی کی برائی یا تنقیدکرکے ووٹ نہیں مانگتا، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، میرا دل روتا ہے آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں اسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔مجھے کیوں وطن سے نکالا گیا‘کیوں جیلوں میں ڈالا گیا‘اس کے ذمہ دار آپ بھی ہیں‘انہوںنے کہاکہ گلگت ائیر پورٹ جو ہم بنا کر گئے تھے اسے کسی نے بڑا نہیں کیا، یہاں تو بوئنگ جیٹس آنے چاہیے تھے، شہباز شریف سے بات کر کے یہاں کے ائیر پورٹ کو بڑا کرنے کا کہوں گا، یہاں ہفتے میں 3 پروازیں آتی ہیں، 30 پروازیں ہونی چاہئیں، ہم نے 9 گھنٹے کے سفر کو تین گھنٹے تک پہنچایا۔صدر مسلم لیگ (ن ) نے کہاکہ یہاں منصوبے شروع ہوتے ہیں اور ختم ہونے کا نام نہیں لیتے، یہاں پانی موجود ہے، دھوپ ہے، یہاں تو توانائی کا مسئلہ ہونا ہی نہیں چاہیے، یہاں سردیوں اور گرمیوں میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، مجھے یہاں طویل لوڈشیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے، آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، اگر یہاں ہماری حکومت بنی تو ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔نواز شریف نے کہاکہ2017 میں این ایف سی کے لیے کمیٹی بنائی تھی اور 2018 میں ہمیں فارغ کر دیاگیا، یہاں کی حکومت نے کیوں یہاں بہت ساری چیزوں کو نظرانداز کیا، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی۔انہوں نے کہا کہ لواری ٹنل 70 سال سے بند تھی، اربوں روپے خرچ کرکے اسے ہم نے پورا کیا، چاہتا ہوں یہاں کے لوگوں کا یہیں علاج ہونا چاہیے، کسی کو اسلام آباد یا دوسرے شہر جانا نہ پڑے، سیاحت سے یہاں کے لوگوں کو روزگار ملے گا، میں سمجھتا ہوں یہاں کے لوگوں کو بھی گھر بنانے کے لیے قرضے ملنے چاہئیں، یہاں کی آبادی تو بہت کم ہے، سب کو گھر مل جائیں گے، یہاں کے نوجوانوں کو بلاسود قرضے ملنے چاہئیں، یہاں کے ہونہار بچوں کو اسکالر شپ اور لیپ ٹاپ بھی دیں گے، خواتین کی یونیورسٹی بھی قائم کی جائے گی۔صدر مسلم لیگ (ن ) نے کہاکہ دیامر بھاشا ڈیم بنانے کے لیے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے زمین کے لیے دیا تھا، زمین تو ہے لیکن دیامر بھاشا ڈیم نہیں بنا، 2015 میں 100 ارب دینے کے باوجود ڈیم اب تک نہیں بنا، ڈیم بننے کا فائدہ آپ کو اور باقی پاکستان کو بھی ہوتا، ہماری حکومت ہوتی تو یہ مسائل نہ ہوتے۔۔انہوں نے کہا شاید آپ مجھے بھول گئے ہوں، لیکن میں آج بھی گلگت بلتستان سے اسی طرح محبت کرتا ہوں۔ نواز شریف نے کہا کہ انہیں پہاڑوں اور شمالی علاقوں سے خاص لگائو ہے اور گلگت بلتستان کے عوام ان کے دل کے قریب ہیں۔بابا ڈیم نے کہا تھا دیامر بھاشا ڈیم بنانے کیلئے کیمپ لگائوں گا‘میں نے لوگو ںسے کہا جاکر دیکھو کیمپ کہاں ہے‘مجھے بتایا گیا کہیں کیمپ نہیں