اوورسیز نے 3.4 ارب ڈالر بھیج دیئے سمندر پار پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں شہبازشریف
وزیراعظم نے آذربائیجان کے دورے پر روانہ ہونے سے قبل نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ملک میں رہنے کی ہدایت کردی ، اہم ذمہ داریاں سونپ دیں ‘ 27ویں ترمیم پر پیش رفت یقینی بنانے کا ٹاسک
ایران اسرائیل جنگ میں پاکستان کی حمایت کو ایرانی عوام کی تحسین اور خصوصی پذیرائی حاصل ہے‘ پاکستان اور ایران دنیا کے امن اور مسلم امہ کے اتحاد پہ یقین رکھتے ہیں:ایرانی سپیکر کی وزیراعظم سے ملاقات میں گفتگو
کراچی‘اسلام آباد(آئی این پی‘آن لائن)اکتوبر 2025 کے دوران اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر کی مد میں 3.4 ارب ڈالر وطن ارسال کیے گئے، نمو کے لحاظ سے ترسیلاتِ زر میں ماہ بہ ماہ اور سال بہ سال بنیادوں پر بالترتیب 7.4 اور 11.9 فیصد اضافہ ہوا۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق جولائی تا اکتوبر مالی سال 26 کے دوران مجموعی طور پر 13.0 ارب ڈالر موصول ہوئے جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ملنے والی 11.9 ارب ڈالر ترسیلات سے9.3 فیصد زائد ہیں۔وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے اکتوبر کی ترسیلات زر میں 11.9 فیصد اضافے کے بعد 3.4 ارب ڈالر کی سطح عبور کرنے پر سمندر پار مقیم پاکستانیوں سے اظہار تشکر کیا۔وزیرِاعظم نے کہا کہ ترسیلات زر میں بتدریج اضافہ سمندر پار مقیم پاکستانیوں کے حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد کی عکاسی ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے خون پسینے کی کمائی سے ملک و قوم کی خدمت میں مصروف عمل ہیں، سمندر پار مقیم پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں۔دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کے دورے پر روانہ ہونے سے قبل نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو اہم ہدایات دیں ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اسحاق ڈار کو نہ صرف ملکی معاملات کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے بلکہ انہیں پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ رابطے میں رہ کر 27ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر پیش رفت کو یقینی بنانے کا ٹاسک بھی دیا گیا ہے‘علاوہ ازیں شہباز شریف کا کہنا ہے پاکستان اور ایران دونوں دنیا کے امن اور مسلم امہ کے اتحاد کے لیے پرعزم ہیں۔اسلامی جمہوریہ ایران کے پارلیمنٹ کے سفیر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے وفد کے ہمراہ وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اسلام آباد میں ملاقات کی۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایران کے ساتھ برادرانہ باہمی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے، اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ اور وفد کا استقبال کیا۔ وزیراعظم نے مسائل کے لیے بات چیت اور سفارتکاری جیسے پرامن طریقوں پر دونوں ممالک کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خمینی اور صدر مسعود پزیکشیاں کے لیے عزت و تکریم اور خیر سگالی کے پیغامات دیے۔وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک ریاستی دہشت گردی اور خود مختار ممالک کے خلاف بلا اشتعال حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ پاکستان اور ایران بد قسمتی سے دہشت گردی کا شکار رہے ہیں، دونوں ممالک پوری دنیا کے لیے امن و خوشحالی اور علاقائی تعاون کے علمبردار ہیں۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان اور ایران مسلم امہ کے اتحاد و یگانگت کے لیے مشترکہ عزم رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ باہمی مفاد کے مختلف شعبوں بالخصوص معاشی تعاون اور دو طرفہ تجارت کو بڑھانے کا خواہش مند ہے۔اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ ڈاکٹر باقر نے وزیراعظم، حکومت اور پاکستان کی عوام کا حالیہ ایران اسرائیل جنگ میں بھرپور تعاون اور حمایت پر دلی اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اسرائیل جنگ میں پاکستان کی حمایت کو ایرانی عوام کی تحسین اور خصوصی پذیرائی حاصل ہے۔ پاکستان اور ایران دنیا کے امن اور مسلم امہ کے اتحاد پہ یقین رکھتے ہیں