ناجائز منافع خوروں کو سزا سے بچنے نہ دی جائے، بے گناہوں کو زیر عتاب نہ لایا جائے:وزیراعظم

ناجائز منافع خوروں کو سزا سے بچنے نہ دی جائے، بے گناہوں کو زیر عتاب نہ لایا جائے:وزیراعظم

وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں رمضان المبارک کے دوران اشیاء خوردونوش کی ارزاں قیمتوں پر فراہمی کے لیے قائم کردہ کمیٹی کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس ہوا۔

 اس اجلاس میں وزیراعظم نے رمضان المبارک میں اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور عوام کو کم قیمتوں پر ضروری اشیاء فراہم کرنے پر کمیٹی اور اسلام آباد انتظامیہ کی کارکردگی کو سراہا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی منافع خور سزا سے بچ نہ پائے اور کوئی بے گناہ شخص بے جا طور پر زیر عتاب نہ آئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا عزم ہے کہ رمضان کے دوران عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔ وزیراعظم نے ہدایت دی کہ عوامی نمائندے اور وفاقی وزراء سستی اشیاء ضروریہ کی فراہمی کے لیے اسلام آباد میں قائم رمضان بازاروں، سہولت اسٹالز اور دیگر مخصوص مقامات کے دورے کریں تاکہ عوام کو بھرپور ریلیف مل سکے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ پرائس کنٹرول کے نظام کی مسلسل نگرانی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف کی فراہمی میں کسی قسم کی کمی نہ آئے۔اجلاس میں وزیراعظم کو قیمتوں میں کمی لانے کے اقدامات، سستی اشیاء خوردونوش کی فراہمی کے لیے قائم کردہ سہولت مراکز، اور منافع خوروں کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

 اسلام آباد میں اس مقصد کے لیے 16 سہولت اسٹالز، 5 رمضان بازار، 18 فیئر پرائس دکانیں اور متعدد دیگر سہولتیں قائم کی گئی ہیں۔ ان سہولتوں میں گھی، انڈے، دالیں، چینی، چکن اور دیگر اشیاء خوردونوش مارکیٹ کی نسبت کم نرخوں پر فراہم کی جا رہی ہیں۔مزید برآں، 12 ضروری اشیاء کی ارزاں قیمتوں پر فراہمی کے لیے ڈپارٹمنٹل اسٹورز میں ڈی سی کاؤنٹر بھی قائم کیے گئے ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ رمضان کے آغاز سے اب تک منافع خوروں کے خلاف 4915 انسپکشنز کی گئیں، 785 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 728,000 روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔ پرائس مجسٹریٹس کی کارکردگی کی نگرانی کے لیے آن لائن ایپ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔بیت المال کے تحت اسلام آباد میں 8 مقامات پر مستحق روزہ داروں کو افطاری کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔اجلاس میں وفاقی وزراء ڈاکٹر احسن اقبال، احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، طارق فضل چوہدری، حنیف عباسی، وزیر مملکت طلال چوہدری اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران بھی شریک تھے۔