جے یو آئی کو اس لیے زیر عتاب لایا جاتا ہے کہ ہم لوگوں کو لڑاتے نہیں:مولانا فضل الرحمان

جے یو آئی کو اس لیے زیر عتاب لایا جاتا ہے کہ ہم لوگوں کو لڑاتے نہیں:مولانا فضل الرحمان

ملتان: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ علما کی قیادت کے بعد سیاست جن ہاتھوں میں آئی، اس کے نتیجے میں خونریزی اور نفرت ختم نہیں ہو سکی۔

خطاب کی تفصیلات
ملتان میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 19ویں صدی سے 20ویں صدی کے وسط تک مسلمانوں کی قیادت علما کے ہاتھ میں تھی، اور اس دوران برصغیر میں امن قائم رہا۔ ان کے مطابق علما کی قیادت کے دور میں دیوبندی، بریلوی یا کسی بھی فرقے کے درمیان اختلافات اور فساد کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ امت مسلمہ متحد تھی اور قوم میں اتفاق و اتحاد تھا۔

سیاست اور نفرت
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ علما کے بعد سیاست نے نفرت، فتنہ، اور لڑائی کو جنم دیا، اور آج تک قوم اس کے اثرات بھگت رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جے یو آئی کو اس لیے نشانہ بنایا جاتا ہے کیونکہ وہ لوگوں کو لڑانے کے بجائے جوڑنے کی بات کرتی ہے۔

فرقہ واریت کی مذمت
انہوں نے فرقہ واریت کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگوں نے فرقوں کو اپنی دکان بنا لیا ہے اور ان کا مقصد صرف نفرت پھیلانا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے بقول:

"دیوبندیت بھی ایک دکان بن گئی ہے۔ کسی بھی فرقے کو گالیاں دو اور اسٹیج گرم کرو، لیکن یہ ہمارے اکابرین کا طریقہ نہیں تھا۔"
پارلیمنٹ میں مؤقف
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ پارلیمنٹ میں تمام مکاتب فکر کی نمائندگی کی بات کی ہے۔ ان کے مطابق:"میں نے پارلیمنٹ کے ممبران سے کہا کہ مجھے کسی خاص فرقے کے حوالے سے اشارہ نہ کیا کریں، کیونکہ میری بات امت مسلمہ کے تمام طبقات کی نمائندگی کرے گی۔"
اتحاد اور انسانیت کا پیغام
مولانا فضل الرحمان نے قوم کو اتحاد، انسانیت، اور امن کا درس دیا اور کہا کہ ان کی جماعت کا مقصد امت کو جوڑنا اور فرقہ واریت کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی ہمیشہ سے امت مسلمہ کے اتحاد کے لیے کام کر رہی ہے۔یہ خطاب مولانا فضل الرحمان کے اتحاد اور امن کے پیغام کو اجاگر کرتا ہے، جو فرقہ واریت اور نفرت کے خاتمے کے لیے ان کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔