تاریخی مسجد کی مسماری کی کوشش؛ بھارت میں مسلمان مودی کے عتاب کا شکار

تاریخی مسجد کی مسماری کی کوشش؛ بھارت میں مسلمان مودی کے عتاب کا شکار

حال ہی میں اتر پردیش کے علاقے سنبھل میں مغلیہ دور کی شاہی جامع مسجد کے سروے کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس کی فائرنگ اور تشدد کے نتیجے میں شہید ہونے والے مسلمانوں کی تعداد چھ ہوگئی۔

 مظاہرین کی اکثریت مسجد کی بے حرمتی پر احتجاج کر رہی تھی، جس کے دوران پولیس نے ابتدا میں آنسو گیس کی شیلنگ کی اور بعد میں براہ راست فائرنگ کی۔ اس فائرنگ میں تین مسلمان شہید اور درجنوں زخمی ہوئے تھے، جن میں سے تین زخمی دوران علاج شہید ہوگئے۔واقعے کے بعد بھارتی پولیس نے ایک ہزار سے زائد افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا، جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ پولیس نے ان افراد کو گرفتار کرنے کے لیے چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کیا۔ گرفتار ہونے والوں میں ایک رکن اسمبلی بھی شامل ہے۔ اس رکن اسمبلی کی جماعت سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے اس واقعے کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت نے جان بوجھ کر اس تشدد کو ہوا دی۔اکھلیش یادو نے مزید کہا کہ بھارت میں سیاسی سطح پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز سیاست اب بھی جاری ہے، حالانکہ خطے کی جغرافیائی سیاست میں تبدیلی آ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے نے بھارتی حکومت کی مسلم مخالف پالیسیوں کو مزید واضح کر دیا ہے۔