سویلینز کو فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا سوال، جسٹس جمال مندوخیل

سویلینز کو فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا سوال، جسٹس جمال مندوخیل

سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں کے کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی علی کیس کی کلاز ڈی سویلینز کو بنیادی حقوق دینے کی بات کرتی ہے، تو پھر اس کیس کے تناظر میں کلاز ڈی کے ہوتے ہوئے سویلینز کو فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیسے کیا جا سکتا ہے؟ یہ سوال ان کے دماغ میں اٹکا ہوا ہے۔

سات رکنی آئینی بنچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کر رہے ہیں، جبکہ وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے جواب الجواب دلائل کا آغاز کیا۔ خواجہ حارث نے ایف بی علی کیس کے ایک پیراگراف کا ذکر کیا، جس میں فوجی ٹرائل کی اجازت دی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ سویلینز کو فئیر ٹرائل کا حق ملتا ہے۔ اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 8(3) اے کے تحت وہ قوانین جو بنیادی حقوق کے مطابق نہیں ہیں، ان پر لاگو نہیں ہوتے اور یہ قوانین کالعدم قرار نہیں دیے جا سکتے۔جسٹس جمال مندوخیل نے مزید کہا کہ ایف بی علی کیس میں یہ کہا گیا کہ آرمڈ فورسز کے ممبران پر بنیادی حقوق لاگو نہیں ہوتے، لیکن سوال یہ ہے کہ سویلینز کو فوجی عدالتوں میں ٹرائل کیسے کیا جا سکتا ہے جب کہ ایف بی علی کیس کے مطابق سویلینز کو بنیادی حقوق حاصل ہیں۔

خواجہ حارث نے اس بات کا جواب دیا کہ اگر سویلینز پر آئین کے آرٹیکل 8(3) اے کا اطلاق ہو، تو پھر ان سویلینز کو بھی بنیادی حقوق حاصل نہیں ہوں گے، جس سے درخواست ناقابل سماعت ہو جائے گی۔ تاہم، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کسی بھی پارٹی کے دلائل پر انحصار کرنے کے بجائے مکمل انصاف فراہم کرنے کے لیے اپنی مکمل طاقت استعمال کر سکتی ہے۔یہ کیس اس وقت ملک کے اہم آئینی معاملات میں سے ایک ہے، جس میں فوجی عدالتوں کی قانونی حیثیت اور سویلینز کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے پیچیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔