سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل کالعدم قرار دینے کے خلاف کیس کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔
جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ اس کیس کی سماعت کر رہا ہے، اور وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دینا شروع کر دیے ہیں۔
اہم نکات:
ججز کے ریمارکس:
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں موجود تمام جرائم کا اطلاق فوجی افسران پر ہی ہوگا۔
خواجہ حارث کو ہدایت:
جسٹس امین الدین خان نے خواجہ حارث سے کہا کہ وہ اپنے دلائل کل تک مکمل کریں اور مقدمات کے فوجی عدالتوں میں منتقلی کی وجہ کو مختصر رکھیں۔
نتیجہ:
کیس کی سماعت میں ججز نے اہم سوالات اٹھائے ہیں جن کا جواب بعد میں دلائل کے دوران دیا جائے گا، اور عدالت کی طرف سے اس معاملے پر مزید تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔