سپریم کورٹ میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیس کی سماعت جاری ہے، جس میں جسٹس جمال مندوخیل نے اہم ریمارکس دیے ہیں کہ "میری رائے میں پارلیمنٹ کے بجائے آئینِ پاکستان سپریم ہے"، اور انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ آئین کے تابع ہے، اس لیے آئین کی بالادستی ہونی چاہیے۔
جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 7 رکنی آئینی بینچ نے ملٹری کورٹس میں سویلینز کے ٹرائل کے کیس کی سماعت کی۔ اس کیس میں وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل دیے، جنہوں نے کہا کہ قانون کا اطلاق کس پر ہونا چاہیے اور کیسے ہونا چاہیے، یہ پارلیمنٹ کا اختیار ہے نہ کہ عدلیہ کا۔دورانِ سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ اگر کل پارلیمنٹ آرمی ایکٹ میں مزید شقیں سویلینز کے لیے شامل کرنا چاہے تو کیا یہ ممکن ہوگا؟ جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ یہ سوال عدالت کے سامنے نہیں ہے۔اس کیس کی سماعت میں آئین کے مطابق سویلینز کے ملٹری ٹرائل سے متعلق اہم قانونی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔