سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیس میں جسٹس جمال مندوخیل کی ریمارکس پر وضاحت

سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیس میں جسٹس جمال مندوخیل کی ریمارکس پر وضاحت

سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت جاری تھی جب جسٹس جمال مندوخیل نے گزشتہ روز دیے گئے اپنے ریمارکس کی وضاحت کی۔

 انہوں نے کہا کہ میڈیا کے ذریعے ان کے ریمارکس کو غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ جسٹس مندوخیل نے وضاحت کی کہ وہ 8 ججز کے فیصلے کے حوالے سے نہیں بلکہ افراد کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 21ویں آئینی ترمیم ملک کی جنگی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی تھی۔سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے بتایا کہ آرٹیکل 175 کے تحت بننے والی عدالتوں کا دائرہ اختیار وسیع ہوتا ہے، جب کہ مخصوص قانون کے تحت بننے والی عدالتوں کا دائرہ محدود ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں انصاف کے منتظر افراد کے حقوق کو متاثر نہیں ہونے دینا چاہیے۔