سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کے خلاف اپیلوں کی سماعت جاری ہے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے دوران سماعت سوال اٹھایا کہ "کیا دھماکہ کرنے والے اور سویلینز میں کوئی فرق نہیں؟"۔ ایڈووکیٹ خواجہ احمد حسین، جو سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل ہیں، نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سویلینز کا کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا، اور فوجی عدالتوں کا طریقہ کار شفاف ٹرائل کے اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر آرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے کورٹ مارشل ممکن ہوتا تو 21ویں ترمیم کی ضرورت نہ ہوتی۔عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ اگر دہشت گردی کے حملے پارلیمنٹ، سپریم کورٹ یا جی ایچ کیو پر ہوں تو ان کا ٹرائل کس عدالت میں ہوگا۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اکیسویں ترمیم میں سیاسی جماعتوں کو باہر رکھا گیا تھا، اور عدالت کے سامنے یہ سوال تھا کہ آرمی ایکٹ کا اطلاق کس پر ہوگا۔ ایڈووکیٹ خواجہ احمد حسین نے اس بات پر زور دیا کہ عدالت ایسا فیصلہ نہ دے جس سے سویلینز کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل ممکن ہو۔جسٹس امین الدین خان نے وضاحت کی کہ عدالت صرف یہ دیکھے گی کہ اپیل منظور کی جائے یا نہیں۔ وزارت دفاع کے وکیل نے دلائل دیے کہ اس کیس میں آرٹیکل 184 کی شق تین کا اطلاق نہیں ہوتا۔