اسلام آباد: سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے معاملے پر سماعت ہوئی، جس میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
اہم عدالتی ریمارکس:
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ انسداد دہشتگردی عدالت کے فیصلے کے بعد ملزمان آرمی ایکٹ کے تابع ہوگئے۔وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اہم سوال یہ نہیں کہ 105 ملزمان کے ملٹری ٹرائل کے لیے سلیکشن کیسے ہوئی، بلکہ اصل معاملہ یہ ہے کہ کیا قانون اس کی اجازت دیتا ہے؟
پس منظر:
یہ کیس 9 مئی کے واقعات کے بعد درج کیے گئے مقدمات کے حوالے سے ہے، جہاں پی ٹی آئی سے وابستہ سویلین ملزمان کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کا معاملہ زیر بحث ہے۔ عدالت اس پر غور کر رہی ہے کہ آیا آرمی ایکٹ کے تحت سویلینز کا ٹرائل قانونی اور آئینی طور پر جائز ہے یا نہیں؟
آئندہ کا لائحہ عمل:
سپریم کورٹ آئندہ سماعت میں مزید دلائل سنے گی۔ممکنہ طور پر اس کیس میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کی آئینی حیثیت پر اہم فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔