پاکستان توانائی،،مینوفیکچرنگ کے علاقائی مرکز کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جام کمال

 وزیر تجارت سے اسپیک ریفائنری وفد کی ملاقات؛ صنعتی ترقی، توانائی سلامتی اور سرمایہ کاری کے فروغ کے عزم کا اعادہ  
اسلام آباد (آن لائن)  وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان توانائی، لاجسٹکس اور مینوفیکچرنگ کے علاقائی مرکز کے طور پر ابھرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ ملک کا اسٹریٹجک جغرافیائی محل وقوع بڑے صنعتی اور توانائی منصوبوں کے لیے غیر معمولی مواقع فراہم کرتا ہے۔  وفاقی وزیر تجارت  سے پاکستان کی پہلی ڈیپ کنورڑن گرین فیلڈ ریفائنری، اسپیک ریفائنری کے وفد نے ملاقات کی، جس میں حب، بلوچستان میں 4.5 ارب ڈالر مالیت کے مجوزہ ریفائنری منصوبے، توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان توانائی، لاجسٹکس اور مینوفیکچرنگ کے علاقائی مرکز کے طور پر ابھرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اسٹریٹجک جغرافیائی محل وقوع بڑے صنعتی اور توانائی منصوبوں کے لیے غیر معمولی مواقع فراہم کرتا ہے، جبکہ حب ریفائنری جیسے منصوبے صنعتی استعداد، توانائی سلامتی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔اس موقع پر اسپیک ریفائنری کے چیئرمین نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حب میں قائم کی جانے والی پاکستان کی پہلی ڈیپ کنورڑن ریفائنری اعلیٰ معیار کی پیٹرولیم مصنوعات کی مقامی پیداوار میں معاون ثابت ہوگی اور ملک کے توانائی کے شعبے میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے تقریباً دو ہزار براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ یہ پاکستان کی توانائی سلامتی اور صنعتی ترقی کو مزید مضبوط بنائے گا۔وفد نے حکومت سے گرین فیلڈ ریفائنری پالیسی پر مؤثر عملدرآمد اور منصوبے کے لیے درکار منظوریوں کے حصول میں سہولت فراہم کرنے کی درخواست بھی کی۔ چیئرمین اسپیک ریفائنری کے مطابق منصوبے کی ابتدائی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں اور اس کی حکمت عملی کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔جام کمال خان نے اس موقع پر کہا کہ حکومت صنعتی ترقی، درآمدی متبادل اور برآمدات میں اضافے کے لیے معاون سرمایہ کاری کی مکمل حمایت کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریفائنری کے ساتھ پیٹروکیمیکل صنعتوں کے قیام سے نہ صرف صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ برآمدات کو بھی نئی تقویت ملے گی، جس
 سے قومی معیشت کو دیرپا فوائد حاصل ہوں گے