اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس — تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، ٹیرف اصلاحات اور زراعت کی ترقی پر زور
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ 2024-25 کے حوالے سے اسلام آباد میں ایک تفصیلی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملکی معاشی پالیسیوں اور عوامی ریلیف اقدامات پر روشنی ڈالی۔
وزیر خزانہ کے اہم نکات:
تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف:
"ہماری بھرپور کوشش تھی کہ تنخواہ دار طبقے کو جتنا ممکن ہو سکے ریلیف دیا جائے۔"محمد اورنگزیب نے تسلیم کیا کہ گزشتہ سال عالمی مالیاتی اداروں (IMF) کی سخت شرائط کے باعث ٹیکس لگانے پڑے۔لیکن اس سال کوشش ہے کہ ریلیف پر توجہ دی جائے، خاص طور پر کم اور متوسط آمدنی والے طبقات کے لیے۔
ٹیرف اصلاحات:
"ہم نے 4 ہزار ٹیرف لائنز پر کسٹمز ڈیوٹیز کو کم کیا ہے۔"وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ان اصلاحات کا مقصد برآمدات میں اضافہ ہے، نہ کہ صرف ٹیکس ریونیو اکٹھا کرنا۔کچھ حلقوں کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ کسٹمز ڈیوٹیز میں کمی سے ٹیکس آمدن متاثر ہو سکتی ہے، لیکن حکومت کا موقف ہے کہ برآمدات میں اضافے سے معیشت کو فائدہ ہوگا۔
زراعت اور لائیو اسٹاک پر توجہ:
"ہم نے بورڈ سے بات کی ہے کہ زرعی شعبے پر ایڈیشنل ٹیکس نہ لگایا جائے۔"چھوٹے کسانوں کے لیے آسان قرضوں کی فراہمی کا اعلان کیا گیا۔وفاق اور صوبے زراعت اور لائیو اسٹاک کی ترقی کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کریں گے۔
پنشن و تنخواہیں مہنگائی سے منسلک کرنے کا منصوبہ:
وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ پنشن اور تنخواہوں کو آئندہ افراطِ زر (مہنگائی) کے ساتھ لنک کرنا ہوگا تاکہ عوام کی قوتِ خرید برقرار رہے۔
مجموعی حکمتِ عملی:
حکومت کی کوشش ہے کہ بجٹ کے ذریعے ایک ایسا ماحول بنایا جائے جس میں:
برآمدات بڑھیں
زراعت اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہو
تنخواہ دار طبقے کو مہنگائی کے اثرات سے تحفظ ملے
اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ ذمہ دارانہ تعلقات بھی قائم رہیں
پس منظر:
بجٹ میں تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ، پنشن میں 15 فیصد اضافہ، اور کم از کم اجرت 37,000 روپے مقرر کی گئی ہے۔حکومت کو عالمی مالیاتی اداروں سے نئے بیل آؤٹ پروگرام کے لیے مذاکرات بھی جاری رکھنے ہیں، اسی لیے بجٹ میں بیلنس قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔وزیر خزانہ کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت بجٹ کو معاشی بحالی، برآمدات میں اضافہ اور سماجی تحفظ کے درمیان توازن پیدا کرنے کے ایک اہم ذریعہ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔