اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس اُس وقت تنازع کا شکار ہو گئی جب صحافیوں نے تکنیکی بریفنگ نہ دیے جانے پر احتجاجاً کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا۔
ذرائع کے مطابق، فنانس بیٹ کور کرنے والے صحافیوں نے جیسے ہی وزیر خزانہ کی پریس کانفرنس کا آغاز ہوا، اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا اور واک آؤٹ کرتے ہوئے کانفرنس سے باہر چلے گئے۔ ان کا مؤقف تھا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کی جانب سے نئے مالی سال 2024-25 کے بجٹ پر کوئی تکنیکی بریفنگ نہیں دی گئی، جو کہ صحافتی ضابطوں اور شفافیت کے اصولوں کے خلاف ہے۔صحافیوں نے کہا کہ تکنیکی بریفنگ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ بجٹ کے ٹیکس اقدامات، محصولات اور دیگر مالی نکات کی جامع وضاحت کی جائے تاکہ درست معلومات عوام تک پہنچائی جا سکیں، لیکن ایف بی آر کی خاموشی سے یہ تاثر ملا کہ حکومت کچھ حقائق چھپا رہی ہے، خاص طور پر ٹیکس پالیسی سے متعلق۔واضح رہے کہ حکومت نے ایک روز قبل نیا وفاقی بجٹ پیش کیا تھا جس میں کئی نئے اقدامات کا اعلان کیا گیا، تاہم تکنیکی بریفنگ کے بغیر صحافیوں کو بجٹ کی مکمل تفصیلات اور اعداد و شمار تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی۔
احتجاج کے باوجود وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے صحافیوں کی غیر موجودگی میں پریس کانفرنس جاری رکھی اور بجٹ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی، تاہم صحافتی حلقوں میں اس طرز عمل پر شدید ردِ عمل دیکھنے میں آیا ہے۔صحافیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مستقبل میں ایسی پریس کانفرنسوں سے قبل شفافیت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے مکمل تکنیکی بریفنگ دی جائے تاکہ بجٹ پر سوالات اور اعتراضات کا تفصیلی اور ذمہ دارانہ جائزہ لیا جا سکے۔