بجٹ میں پنشن فنڈز کا حجم 1 ٹریلین سے تجاوز، 10 ملین سے زائد پنشن پر 5 فیصد ٹیکس کی تجویز: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

بجٹ میں پنشن فنڈز کا حجم 1 ٹریلین سے تجاوز، 10 ملین سے زائد پنشن پر 5 فیصد ٹیکس کی تجویز: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ موجودہ بجٹ میں پنشن کے لیے مختص فنڈز کا حجم ایک ٹریلین روپے سے تجاوز کر گیا ہے، جو ترقیاتی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ 10 ملین روپے سے زائد سالانہ پنشن پر 5 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔وہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

کلیدی نکات:
پنشن فنڈ کا حجم: 1 ٹریلین روپے سے زائد، جو ملکی ترقیاتی بجٹ سے بھی بڑھ چکا ہے۔
ٹیکس تجویز: 10 ملین روپے سے زیادہ سالانہ پنشن پر 5 فیصد ٹیکس۔
معاشی اصلاحات: ایس او ایز، توانائی اور ٹیکس شعبے میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر پائیدار عمل درآمد کیا جائے گا۔
سرکاری اخراجات میں کمی اور قرضوں کے منظم انتظام پر بھی کام جاری ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ سندھ اور خیبرپختونخوا میں پنشن کنٹری بیوشن اور پی پی پی ماڈل کے تجربات سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔
عالمی اور علاقائی تناظر:
انہوں نے خطے میں جاری کشیدگی اور اس کے ممکنہ معاشی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہے۔ اس حوالے سے تمام شراکت داروں کے ساتھ مشاورت جاری ہے تاکہ توانائی ذخائر اور قیمتوں کی نگرانی ممکن ہو سکے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز امریکی وزیر تجارت سے بھی مفید بات چیت ہوئی، اور دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی شراکت داری مضبوط ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امریکی ٹیرف کے تناظر میں ایک مسابقتی مارکیٹ ہے۔

ٹیرف اصلاحات:
محمد اورنگزیب نے ٹیرف اصلاحات کو "بنیادی تبدیلی" قرار دیا اور بتایا کہ ان اصلاحات سے کچھ صنعتیں متاثر ہو سکتی ہیں، جس کے لیے وزیراعظم نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو ان چیلنجز سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گی۔وزیر خزانہ نے زور دیا کہ پائیدار معاشی ڈھانچے کی تعمیر اور وسائل کے مؤثر استعمال کے بغیر معاشی بہتری ممکن نہیں۔