اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تمام بینکوں سے درخواست کی کہ وہ دیوالیہ اداروں کی بحالی کو ترجیح دیں اور عدالت میں جانے سے پہلے ان اداروں کی مالی حالت درست کرنے کے لیے اقدامات کریں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کاروبار نہیں کرے گی، بلکہ نجی شعبے کو کاروبار میں آگے لانے کے لیے مکمل سپورٹ فراہم کرے گی۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان نے اپنے خساروں پر قابو پا لیا ہے اور ملک میں مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ نافذ کر دیا گیا ہے، جس کی بدولت زرِمبادلہ کے ذخائر 16.6 ارب ڈالرز تک پہنچ گئے ہیں، جو کہ تقریباً ڈھائی ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک مشکل حالات میں گیا لیکن اس نے ان مشکلات کو کامیابی کے ساتھ حل کر لیا، اور اب معیشت استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ حکومت نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے اور مشاورت سے آگے بڑھنا چاہتی ہے تاکہ نجی شعبہ حکومت کی پالیسیوں میں بھرپور حصہ لے سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارتِ خزانہ زبردستی نہیں کرے گی بلکہ نجی شعبے کو مشورہ دینے کا موقع دے گی۔اس موقع پر چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن عاکف سعید نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ دنیا بھر میں دیوالیہ پن کے لیے جامع قوانین بنائے جا چکے ہیں، اور پاکستان کو بھی اپنے قانون میں جدت لانی ہوگی تاکہ ملک کی معیشت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔