کینیڈا نے پاکستانی نژاد شہری محمد شاہزیب خان کو دہشتگردی کی سازش کے الزام میں امریکا کے حوالے کر دیا ہے۔
20 سالہ شاہزیب خان پر نیویارک میں دہشتگرد تنظیم داعش کی معاونت اور یہودی برادری پر حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے مطابق شاہزیب خان نے نیویارک میں یہودیوں پر حملے کی نیت سے امریکا آنے کی کوشش کی، تاہم ایف بی آئی اور اس کے بین الاقوامی شراکت دار اداروں کی مدد سے بروقت کارروائی کرکے ممکنہ حملے کو ناکام بنا دیا گیا۔شاہزیب کو ستمبر 2024 میں کینیڈا میں گرفتار کیا گیا تھا، جہاں وہ مقیم تھا۔ گرفتاری کے بعد اس کے خلاف جاری تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ وہ مبینہ طور پر داعش سے رابطے میں تھا اور دہشتگرد حملے کی تیاری کر رہا تھا۔
کینیڈین حکام نے امریکی درخواست پر شاہزیب خان کو تحویل میں دے کر امریکا منتقل کر دیا، جہاں آج اسے نیویارک کی ایک عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ اس پر دہشتگرد تنظیم کو مدد فراہم کرنے اور دہشتگردی کی سازش کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔شاہزیب خان کے خلاف جاری عدالتی کارروائی امریکا میں قومی سلامتی کے مقدمات کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ وہ اس کیس کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے اور تمام شواہد عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔