16 منصوبے سندھ کے بجائے وفاقی وزارت ہائوسنگ کو دیدئے گئے صوبائی خودمختاری پرحملہ ہے:وزیراعلی

کراچی،حیدرآباد، سکھر، نوابشاہ اور میرپورخاص کے منصوبے  وفاقی وزارت ہائوسنگ  کو دیئے گئے ہیں‘ان میں سڑکوں ور سیوریج کی تعمیر  بھی شامل ہے
 کراچی (آئی این پی )وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال میں سندھ کے 16 ترقیاتی منصوبے حکومت سندھ کو دینے کے بجائے وفاقی وزارت ہائوسنگ کو دے دئیے، وزیراعلی سندھ سیدمراد علی شاہ نے اقدام کو صوبائی خودمختاری پرحملہ قرار دے دیا۔ رپورٹ کے  مطابق نئے مالی سال 26-2025 میں کراچی،حیدرآباد، سکھر، نوابشاہ اور میرپورخاص کے 16 ترقیاتی منصوبے وفاقی وزارت ہا ئوسنگ کو دے دیے گئے، ان منصوبوں میں حیدرآباد کیروڈ، سیوریج کی تعمیر، کراچی میں ضلع وسطی، شرقی، کورنگی،ملیر اور غربی کے روڈ اور سیوریج کی تعمیر شامل ہیں۔وزیراعلی سندھ سیدمراد علی شاہ نے وفاقی حکومت کے اقدام کو صوبائی خودمختاری پرحملہ قرار دیا ہے۔وفاقی وزارت ہائوسنگ کے حوالے کیے گئے منصوبوں میں سکھر، نوابشاہ اور میرپورخاص کی یوسیز اور وارڈز میں واٹرسپلائی، سیوریج لائنوں ،سولرلائیٹس کی تنصیب ، لطیف آباد حیدرآباد میں روڈ کی تعمیر کے چھ منصوبے اور کراچی کے کار بازار ضلع وسطی میں پارک کی تعمیر بھی شامل ہے۔اس کے علاوہ ضلع وسطی کراچی میں پاک ایشین فٹبال گرانڈ کی تعمیر، ضلع غربی ، ضلع وسطی ، ضع کورنگی میں انفرااسٹرکچر کی بحالی ، روڈ م واٹر لائن، سیوریج ، پارک اور کھیل کے میدان کی تعمیر کے منصوبے بھی وفاقی وزارت ہائوسنگ کو دیے گئے ہیں۔حیدرآباد میں حسین آباد سے کوہسار تک واٹر سپلائی لائن کا کام بھی وفاقی وزارت کے حوالے کردیا گیا ہے، صرف دو منصوبے گرین لائن بی آر ٹی کی تعمیر اور گرین لائن بی آر ٹی کو فعال بنانے کی ذمہ داری حکومت سندھ کو دی گئی ہے۔