پشاور سے موصولہ اطلاعات کے مطابق باجوڑ میں فائرنگ سے شہید ہونے والے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما مولانا خان زیب کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ مرحوم کو ان کے آبائی علاقے ناؤگئی میں سپرد خاک کیا گیا۔نمازِ جنازہ میں اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کی عدم موجودگی میں سردار حسین بابک، افتخار حسین، نثار باز، ڈاکٹر حمید، انور زیب خان اور باجوڑ سے دیگر اراکینِ اسمبلی سمیت عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ جنازہ اجتماع میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔
واقعے کی تفصیلات اور پولیس رپورٹ:
پولیس رپورٹ کے مطابق، مولانا خان زیب کو باجوڑ میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ معمول کے مطابق اپنی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق دو موٹر سائیکلوں پر سوار پانچ حملہ آوروں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس حملے میں اے این پی رہنما کے ساتھ تعینات پولیس کانسٹیبل شیر زادہ بھی شہید ہوگئے، جبکہ تین افراد زخمی ہوئے۔فائرنگ کے مقام سے پستول کی 35 گولیوں کے خول برآمد کیے گئے ہیں۔ ابتدائی تفتیش میں حملے کو منصوبہ بند ٹارگٹ کلنگ قرار دیا گیا ہے۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی خار میں ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کرلیا ہے جبکہ دو مقامات کی جیو فینسنگ بھی کی جا رہی ہے۔
سیاسی ردعمل:
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مولانا خان زیب کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے پولیس کانسٹیبل کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ واقعہ خیبر پختونخوا کے امن و امان پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور صوبائی حکومت سیاسی کارکنوں کو مکمل تحفظ فراہم کرے۔
پس منظر:
مولانا خان زیب باجوڑ میں اے این پی کے متحرک اور معروف رہنما تھے۔ ان کا قتل نہ صرف پارٹی کے لیے بلکہ خطے میں جمہوری اور سیاسی عمل کے لیے بھی بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔پولیس اور سیکیورٹی ادارے تحقیقات میں مصروف ہیں، جبکہ عوامی حلقوں اور سیاسی جماعتوں نے واقعے کی شفاف اور فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔