مدرسہ جامعہ دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں نماز جمعہ کے بعد خودکش دھماکے میں شہید ہونے والے جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا حامد الحق سمیت دیگر شہداء کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔
نماز جنازہ میں افغان قونصلر جنرل محب اللہ شاکر، سابق گورنر غلام علی، سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق، سینیٹر مشتاق احمد اور صوبائی اسمبلی کے اراکین سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک اور اس کے اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی اور داخلی دروازوں پر اسکینرز نصب کیے گئے تھے۔
دھماکے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، خودکش حملہ آور سیڑھیوں کے قریب موجود تھا اور مولانا حامد الحق نماز پڑھ کر نکلے تو دہشت گرد نے انہیں نشانہ بنایا۔انسپکٹر جنرل آف پولیس ذوالفقار حمید نے نوشہرہ کا دورہ کیا اور سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے افسران کو ہدایات جاری کیں کہ اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر دھماکے کے پس پردہ عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک دھماکے میں صوابی سے تعلق رکھنے والے دو شہداء کی نماز جنازہ بھی ادا کی گئی۔