پاکستان کے نامور سیاسی و مذہبی رہنما، صحافی اور دانشور آغا مرتضیٰ پویا طویل علالت کے بعد کراچی کے نجی ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر تقریباً 80 سال تھی۔
مرحوم کچھ عرصے سے شدید علیل تھے اور کراچی کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج تھے۔ آغا مرتضیٰ پویا ایک قد آور شخصیت تھے جنہوں نے سیاسی، صحافتی اور فکری میدانوں میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔
صحافت، سیاست اور فکری میدان میں نمایاں خدمات
آغا مرتضیٰ پویا ایک معروف انگریزی اخبار کے بانی مالک تھے اور ملکی و بین الاقوامی سیاست پر ان کی گہری نظر سمجھی جاتی تھی۔ وہ نہ صرف وفاقی وزیر کے عہدے پر فائز رہے بلکہ انہیں انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز (ISSI) کے سربراہ کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دینے کا اعزاز حاصل رہا۔وہ پاکستان عوامی تحریک کے سینئر نائب صدر کے طور پر بھی سیاست میں سرگرم رہے اور ملکی و مذہبی معاملات پر مدلل اور متوازن رائے رکھنے والے رہنما سمجھے جاتے تھے۔
نماز جنازہ کا اعلان
مرحوم کی نماز جنازہ آج بعد نماز جمعہ اسلام آباد کی امام بارگاہ صادق، جی نائن میں ادا کی جائے گی۔ ان کے انتقال پر سیاسی و مذہبی حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔
ملکی نقصان
سیاسی و صحافتی حلقوں نے آغا مرتضیٰ پویا کے انتقال کو پاکستان کے فکری، علمی اور سیاسی منظرنامے کا بڑا نقصان قرار دیا ہے۔ کئی رہنماؤں نے سوشل میڈیا اور بیانات میں ان کی وفات پر تعزیت اور دعائے مغفرت پیش کی ہے۔