پانی کو ہتھیار بنانے کی کوششوں کے سنگین علاقائی اور عالمی نتائج ہو سکتے ہیں پاکستانی نائب مندوب

 2026 واٹر کانفرنس سرحدی دریائوں کے پائیدار نظم و نسق کا نادر موقع ہے، قانونی فریم ورک، تعاون، اور تنازعہ سے بچائو پر توجہ دی جائے
سندھ طاس 22 کروڑ عوام کی زندگی، صحت اور توانائی کا ضامن ہے ،پاکستان عالمی آبی کانفرنس کی کامیابی کیلئے بھرپور تعاون کریگا:عثمان جدون
 نیویارک(آئی این پی )پاکستان نے بھارت کی طرف سے پانی کو ہتھیار بنانے کے خلاف سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اسے تقسیم کا ذریعہ بنانے کے سنگین علاقائی اور عالمی نتائج ہو سکتے ہیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پائیدار ترقی کیلئے پانی  کے حصول کیلئے ایک اجلاس ہوا، اقوام متحدہ میں نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے پاکستان کے پانی کے لیے عالمی تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔اقوامِ متحدہ میں پائیدار ترقی کے ہدف چھ پر پاکستانی نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے کہا کہ  پانی تفرقہ نہیں، اتحاد کی علامت ہے، پانی کو ہتھیار بنا کر تقسیم کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے۔سفیر جدون نے آئندہ 2026 واٹر کانفرنس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ کانفرنس سرحدی دریائوں کے پائیدار نظم و نسق کا نادر موقع ہے جس میں قانونی فریم ورک، تعاون، اور تنازعہ سے بچا پر توجہ دی جائے۔پاکستانی نائب مستقل مندوب نے کہا کہ گلوبل ساتھ کی آواز کو بلند کرنا ضروری ہے، مشترکہ پانیوں کے منصفانہ استعمال اور نقصان سے بچا ئوعالمی ذمہ داری ہے۔، سندھ طاس 22 کروڑ عوام کی زندگی، صحت اور توانائی کا ضامن ہے اس لیے پاکستان عالمی آبی کانفرنس کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون کریگا۔