فیکٹ چیک کے خاتمے پر بائیڈن کا میٹا پر غصے کا اظہار

فیکٹ چیک کے خاتمے پر بائیڈن کا میٹا پر غصے کا اظہار

امریکی صدر جو بائیڈن نے میٹا کمپنی کی جانب سے فیکٹ چیکنگ کے خاتمے کے فیصلے پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے اور اسے شرمناک قرار دیا ہے۔

 یہ فیصلہ میٹا نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے کیا تھا جس کے تحت فیس بک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز پر پھیلنے والی غلط معلومات یا جھوٹے دعووں کو چیک کرنے کا عمل روک دیا تھا۔ بائیڈن کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں لاکھوں افراد جھوٹے، گمراہ کن اور غیر مصدقہ مواد کا شکار ہوں گے جو ان کی حقیقت پر مبنی تفہیم میں رکاوٹ ڈالے گا۔صدر بائیڈن نے اس فیصلے کو امریکا کے لیے ایک خطرہ قرار دیا اور کہا کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو یہ نہ صرف لوگوں کو گمراہ کرے گا بلکہ ملک کے سماجی اتحاد کو بھی نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا کا میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہمیشہ سچ اور حقیقت پر مبنی معلومات فراہم کرنی چاہیے تاکہ عوام کو گمراہ کن مواد سے بچایا جا سکے۔

صدر نے کہا کہ یہ عمل ایک ارب پتی شخص کو اپنے مفادات کے مطابق جتنی چاہے غلط معلومات پھیلانے کی اجازت دے گا، جس سے عوامی رائے کو مغالطے میں ڈالا جا سکتا ہے۔ بائیڈن نے کہا کہ اس طرح کی صورتحال سے امریکا میں غلط معلومات کی طوفانی ہوائیں چلیں گی اور اس کے اثرات ملک کے اتحاد اور استحکام پر پڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ملک کو تقسیم کرنا اور اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہو سکتا ہے۔

یہ فیصلہ میٹا کمپنی کی جانب سے 2024 کے انتخابات کے پیش نظر کیا گیا تھا جس میں کمپنی نے فیکٹ چیکنگ کی پالیسیوں میں نرمی لانے کا اعلان کیا تھا۔ بائیڈن اور ان کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف انتخابی عمل پر اثر پڑے گا بلکہ عوام کے درمیان جھوٹ اور دلی انتشار پھیلانے کی گنجائش بڑھ جائے گی۔