جو بائیڈن کینسر کا شکار، ٹرمپ اور اوباما کی جانب سے نیک تمناؤں کا اظہار

جو بائیڈن کینسر کا شکار، ٹرمپ اور اوباما کی جانب سے نیک تمناؤں کا اظہار

سابق امریکی صدر جو بائیڈن میں کینسر کی تشخیص کے بعد دنیا بھر سے ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں، ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز سے وابستہ قانون سازوں نے 82 سالہ سابق صدر کی صحت کے لیے دعائیں کی ہیں۔ریپبلکن رہنما ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ردعمل دیتے ہوئے کہا:"اہلیہ میلانیا اور میں جو بائیڈن کی طبی صورتحال سن کر افسردہ ہیں۔ ہم ان کی مکمل اور فوری صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔"سابق صدر بارک اوباما نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر پیغام دیا:"مشیل اور میں بائیڈن خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جو بائیڈن نے کینسر کے خلاف جنگ میں بے مثال کردار ادا کیا ہے، اور ہمیں یقین ہے کہ وہ اس بیماری کا بھی ہمت سے مقابلہ کریں گے۔"
واضح رہے کہ جو بائیڈن، اوباما انتظامیہ میں نائب صدر رہ چکے ہیں اور 2015 میں ان کے بیٹے بیو بائیڈن کا انتقال دماغی کینسر سے ہوا تھا۔ اس ذاتی المیے کے بعد جو بائیڈن نے "کینسر مون شاٹ" جیسے اہم منصوبے کی قیادت کی، جس کا مقصد کینسر سے ہونے والی اموات میں کمی اور مریضوں کی زندگیوں میں بہتری لانا تھا۔دنیا بھر سے سیاسی و سماجی رہنماؤں کی جانب سے جو بائیڈن کی صحت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا جا رہا ہے۔