سابق ڈپٹی کمشنر کرم جاوید محسود کو 4 جنوری کو کُرم میں دہشت گردوں کی فائرنگ کے دوران زخمی کیا گیا تھا۔
انہیں فوری طور پر سی ایم ایچ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کا علاج شروع کیا۔ ابتدائی طور پر جاوید محسود کو کندھے اور ٹانگ میں گولیاں لگیں، اور ان کے جسم پر ہونے والے شدید زخموں کی بنا پر فوری سرجری کی گئی۔پہلے مرحلے میں، ڈاکٹروں نے ان کے بائیں کندھے سے دو گولیاں نکال دیں، تاہم کندھے کے فریکچر کی سرجری کو مزید وقت کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ مناسب وقت پر اس سرجری کو انجام دیا جائے گا۔
جاوید محسود کی حالت اب خطرے سے باہر ہے، کہ وہ اور ان کا خاندان حکومت اور پاک فوج کا شکر گزار ہیں جنہوں نے ان کے والد کا مکمل خیال رکھا اور علاج میں مدد فراہم کی۔یہ واقعہ 4 جنوری کو پیش آیا تھا جب جاوید محسود پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا اور انہیں زخمی کر دیا۔ اس حملے کے بعد ان کی حالت نازک تھی، مگر اب وہ خطرے سے باہر ہیں اور مکمل صحت یابی کی طرف گامزن ہیں۔