ویب ڈیسک: لوئر کرم کے علاقے بگن میں ضلعی انتظامیہ کی گاڑی پر نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود زخمی ہو گئے۔
زخمی ڈپٹی کمشنر کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم ذرائع کے مطابق انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور منتقل کیا جا رہا ہے۔پولیس نے بتایا کہ بگن کے علاقے میں وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ آر پی او کوہاٹ نے اس فائرنگ کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ فائرنگ فریقین کی جانب سے نہیں کی گئی، بلکہ نامعلوم افراد نے یہ کارروائی کی۔ ملزمان کی تلاش جاری ہے اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق، قافلہ ہنگو کی تحصیل ٹل سے نکلنے کی تیاری کر رہا تھا، مگر ابھی تک یہ نہیں نکلا۔ مشاورت اور صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد قافلہ روانہ ہوگا۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس فائرنگ کی شدید مذمت کی اور زخمی ڈپٹی کمشنر کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ فائرنگ امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی سازش تھی اور شرپسندوں نے اس گھناؤنی حرکت کے ذریعے امن معاہدے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ امن و امان قائم رکھنے میں حکومت کی مدد کریں اور ایسے عناصر کی سرکوبی کے لیے ساتھ دیں۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب کرم تنازعے پر فریقین کے درمیان امن معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت ٹل پارہ چنار شاہراہ کو 3 ماہ بعد آج کھولا جانا تھا۔ مشیر اطلاعات کے پی بیرسٹر سیف نے کہا کہ پہلے قافلے میں 75 گاڑیوں کو سکیورٹی حصار میں کرم روانہ کیا جائے گا۔