کراچی: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا کوئی واضح نظریہ نہیں ہے، ان کا واحد مقصد اپنی گرفت کو برقرار رکھنا ہے، چاہے وہ جائز ہو یا ناجائز۔
انہوں نے کہا کہ اس پر جے یو آئی کو مسلسل اعتراض ہے اور یہ اعتراض مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔کراچی میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے اعتماد میں نہ لینے پر بھی اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے اس معاملے میں انہیں اعتماد میں نہیں لیا اور اس بابت انہیں کچھ علم نہیں ہے کہ پی ٹی آئی کیا کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات کی شفافیت کا حکومت کی مدت سے کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ آمرانہ حکومتیں بھی اپنی مدت مکمل کر لیتی ہیں، لیکن انتخابی نتائج پر انہیں تحفظات ہیں۔ وہ بلوچستان کے حلقہ 45 میں حالیہ انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ منتخب امیدواروں کے ووٹوں کی تعداد مشکوک ہے، اور اس پر کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے۔مولانا فضل الرحمن نے اسٹیبلشمنٹ کے رویے پر بھی تنقید کی، اور کہا کہ اسٹیبلشمنٹ جمہوریت اور آئین کا مذاق اُڑا رہی ہے، اور عوام کی رائے کو نظرانداز کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جے یو آئی اپنے مؤقف پر قائم ہے اور 2018 کے انتخابات کے دوران کی طرح 2024 میں بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی قسم کی مفاہمت یا مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔انہوں نے سیاستدانوں پر بھی تنقید کی جو جمہوریت اور آئین کے ساتھ سمجھوتے کرتے ہیں، اور نظام کو اپنے مفاد میں استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اپنی سیاسی معتبری کو قائم رکھ سکیں۔مولانا فضل الرحمن نے مدارس کے نظام تعلیم میں کسی بھی مداخلت کو تسلیم نہ کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی طبقہ ہر قیمت پر اپنے حق میں کھڑا رہے گا، اور حکمرانوں کو مدارس سے "پنگا" لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔