مولانا فضل الرحمان کی پشاور میں کی گئی حالیہ پریس کانفرنس خاصی جامع اور کئی اہم معاملات پر روشنی ڈالتی ہے۔
ان کے بیانات سے درج ذیل اہم نکات سامنے آتے ہیں:
فاٹا انضمام اور اسٹیبلشمنٹ کا کردار
مولانا فضل الرحمان نے ایک بار پھر فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام پر تحفظات کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس انضمام کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ تھی، اور اسٹیبلشمنٹ کے پیچھے "بیرونی قوتیں" کارفرما تھیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ فاٹا کے انضمام کے بعد بھی قبائلی عوام کے حقوق نظر انداز کیے جا رہے ہیں، خصوصاً معدنی وسائل کے تناظر میں۔
معدنیات، وسائل اور صوبائی خودمختاری
مولانا نے وفاق پر الزام عائد کیا کہ معدنی وسائل پر یکطرفہ قبضے کی کوشش کی جارہی ہے۔"مائنز اینڈ منرلز" سے متعلق وفاقی حکومت کا بل مشکوک قرار دیا اور کہا کہ اس میں بیرونی مداخلت کا بھی خدشہ ہے۔ان کے مطابق، یہ بل صوبوں کے اختیار میں مداخلت کے مترادف ہے، اور جے یو آئی اسے قبول نہیں کرے گی۔18ویں ترمیم پر کوئی قدغن قبول نہیں کی جائے گی۔
افغان مہاجرین کے انخلاء پر موقف
مولانا فضل الرحمان نے افغان مہاجرین کے جبری انخلاء پر بھی سخت اعتراض اٹھایا۔
انہوں نے تین کیٹیگریز کی تجویز دی:
تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد
تاجر طبقہ
طالب علم
ان کا کہنا تھا کہ ان کی واپسی بین الاقوامی اداروں کی نگرانی اور دونوں ملکوں کے باہمی طریقہ کار سے ہونی چاہیے۔
سیکیورٹی صورتحال اور گورننس پر تنقید
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں جے یو آئی کے کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔جنوبی اضلاع میں حکومتی رٹ ختم ہوچکی ہے، اور وہاں مسلح گروہ سرگرم ہیں۔17 ہزار سرکاری ملازمین کو نکالنے پر بھی سخت تنقید کی۔
سیاسی بیانیہ اور مستقبل کے لائحہ عمل
جے یو آئی نے آل پارٹیز کانفرنس کی ہے اور دیگر جماعتوں سے بھی رابطے جاری ہیں۔
19 اور 20 اپریل کو مرکزی کونسل کا اجلاس اور 11 مئی کو مینارِ پاکستان پر "ملین مارچ" ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ:
"ہم پاکستان کے اندر رہ کر بات کریں گے"
"ہم آزادی یا علیحدگی کی بات نہیں کرتے"
"ہم صوبوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں"
پی ٹی آئی پر تبصرہ
مولانا نے کہا کہ پرویز خٹک اور محمود خان کو پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ بنایا، لیکن اب وہ کس کے ساتھ ہیں، یہ واضح نہیں۔