محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کی جانب سے قائد اعظم انٹرچینج سے واہگہ بارڈر تک جی ٹی روڈ کو ٹورازم کوریڈور میں تبدیل کرنے کے لیے منصوبے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد نہ صرف سڑک کی حالت بہتر بنانا ہے بلکہ لاہور کی ثقافت اور سیاحت کو بھی اجاگر کرنا ہے۔
منصوبے کی تفصیلات:
کشادہ نئی کارپٹڈ روڈ: جی ٹی روڈ پر سڑک کی از سر نو تعمیر کی جا رہی ہے تاکہ مسافروں کو بہترین سہولت فراہم کی جا سکے۔
ماڈل سٹرکچر فینس: سڑک کے اطراف میں خوبصورت اور جدید آرٹفیشل فینس بنائی جائیں گی، جو لاہور کی ثقافت کو اجاگر کریں گی۔
ماڈل ریڑھیاں: سڑک پر جگہ جگہ ماڈل ریڑھیاں نصب کی جائیں گی، جو علاقے کی خوبصورتی میں اضافہ کریں گی۔
لاگت اور فنڈنگ:
منصوبے پر 3 ارب 28 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔پنجاب حکومت نے اس منصوبے کے لیے ایک ارب روپے کی ایلوکیشن رواں سال میں کر رکھی ہے۔اپیکس کمیٹی میں بھی اس منصوبے پر تفصیل سے بات چیت کی جا چکی ہے۔
منصوبے کے فوائد:
سیاحت میں اضافہ: واہگہ بارڈر آنے والے سیاحوں کو یہ کوریڈور ایک نئے تجربے سے روشناس کرائے گا۔
سکیورٹی بہتری: جی ٹی روڈ کے اطراف تجاوزات اور سڑک کی خراب حالت سکیورٹی رسک بن چکی تھی، جس کے باعث اس منصوبے سے سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری آئے گی۔
ثقافتی منظر: آرٹیفیشل وال کے ذریعے لاہور کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو نمایاں کیا جائے گا۔
منصوبے کا مقصد:
یہ منصوبہ نہ صرف سیاحت کو فروغ دے گا بلکہ لاہور کے ثقافتی ورثے کو بھی عالمی سطح پر اجاگر کرے گا۔ واہگہ بارڈر اور بھارت سے پاکستان آنے والے مسافروں کے لیے یہ ایک اہم سیاحتی راستہ ثابت ہوگا۔یہ منصوبہ لاہور کی خوبصورتی کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔