سیالکوٹ: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی حالیہ جنگ میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا، بھارت کی حکومت، فوج اور میڈیا نے خود اپنی شکست تسلیم کی، جو پاکستان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔
سیالکوٹ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگیں ہوئیں، تاہم ہر بار کوئی نہ کوئی ابہام باقی رہ جاتا تھا، لیکن یہ پہلی جنگ تھی جس میں شکست کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں اور بھارت نے خود اس کا اعتراف کیا۔خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دی۔ امریکی صدر بھی متعدد مرتبہ پاکستانی کارروائیوں اور طیاروں کے گرائے جانے کا ذکر کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان کی سفارتی کامیابیاں بھی جاری ہیں اور معرکہ حق کی فتح کے بعد عالمی سطح پر ملک کو پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اس کامیابی کے پیچھے ہمارے شہدا کی قربانیاں ہیں، جنہوں نے اپنے خون سے وطن عزیز کا دفاع کیا۔ پاکستان نے اسلامی دنیا کو بھی ایک نئی راہ دکھائی ہے کہ بیرون ملک قائم فوجی اڈے لازماً کسی ملک کی حفاظت کے لیے نہیں ہوتے، بلکہ ان کے قیام کے پیچھے دوسرے مفادات بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سمندر پار اڈے کسی ملک کی حقیقی حفاظت کی ضمانت نہیں ہوتے، اصل دفاع اپنے دست و بازو پر انحصار کرنے سے ممکن ہے۔ ان کے بقول بعض اسلامی ممالک کو یہ غلط فہمی تھی کہ بیرون ملک قائم اڈے ان کی حفاظت کے لیے بنائے گئے ہیں، حالانکہ ان کا مقصد اسرائیل کا تحفظ ہے۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پاکستان نے ایران اور اس کے عرب بھائیوں کے درمیان اختلافات دور کرنے میں بھی کردار ادا کیا۔اپنی سیاسی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے خواجہ آصف نے بتایا کہ انہوں نے 1991 میں سیاست میں قدم رکھا اور گزشتہ 36 برس سے عوام کی نمائندگی اور ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ شہر ان کی پہچان ہے اور یہاں کے عوام کی بہتری ان کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی زندگی میں بہت سے نشیب و فراز دیکھے اور کئی مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ پرویز مشرف کے دور میں انہیں اٹک قلعے میں قید رکھا گیا، جبکہ 2020 میں پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت میں نیب نے انہیں چھ ماہ تک حراست میں رکھا۔ خواجہ آصف کے مطابق دورانِ حراست نیب حکام انہیں ان کے خلاف الزامات بھی واضح طور پر نہیں بتا سکے تھے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ سیاسی حکومتیں بعض اوقات پہلے کسی شخص کو گرفتار کرتی ہیں اور بعد میں اس کے خلاف الزامات تلاش کرتی ہیں۔ ان کے بقول انتقامی سیاست کبھی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہوتی۔خواجہ آصف نے اپنی سیاسی تھکن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کبھی کبھی انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ تھک چکے ہیں، تاہم چند روز قبل اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان سے ملاقات اور ان کے بیان پر ردعمل دینے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ ابھی ان میں بہت دم خم باقی ہے۔