آمدن سے زائد ٹرانزیکشنز: ایف بی آر کا سخت کارروائی کا فیصلہ

آمدن سے زائد ٹرانزیکشنز: ایف بی آر کا سخت کارروائی کا فیصلہ

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ وہ بینکوں کے ذریعے ٹیکس دہندگان کی ٹرانزیکشنز کی نگرانی کرے گا تاکہ ان افراد کے خلاف کارروائی کی جا سکے جو اپنی ظاہر کردہ آمدن سے زیادہ مالیت کی ٹرانزیکشنز کرتے ہیں۔

 اس سلسلے میں چیئرمین ایف بی آر، راشد لنگڑیال نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کو بتایا کہ بینکوں کو ٹیکس دہندگان کی آمدن اور ٹرن اوور کا ڈیٹا ایف بی آر کے ساتھ شیئر کرنے کی ہدایت دی جائے گی۔اگر کسی شخص کی ٹرانزیکشن کا حجم ایف بی آر کے ڈیٹا سے مطابقت نہیں رکھتا تو بینکوں کو اس کی رپورٹ فراہم کرنا ضروری ہوگا۔ چیئرمین نے واضح کیا کہ بینکوں سے کہا جائے گا کہ وہ ٹرانزیکشن کو روکنے کے بجائے رپورٹ ایف بی آر کو فراہم کریں۔ اس رپورٹ میں ایسی ٹرانزیکشنز کو شامل کیا جائے گا جو ویلتھ اسٹیٹمنٹ یا ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کردہ آمدن سے زیادہ ہوں۔اس اقدام کا مقصد ٹیکس کے نظام کی شفافیت کو بڑھانا اور ٹیکس چوری کے خلاف مؤثر کارروائی کرنا ہے۔ ایف بی آر کی یہ نئی حکمت عملی ٹیکس دہندگان کی نگرانی کو مزید سخت کرے گی اور ظاہر کردہ آمدن سے زائد مالیت کی ٹرانزیکشنز کرنے والوں کو قابو پانے میں مدد دے گی۔