ویب ڈیسک: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے دو لاکھ روپے سے زائد کی نقد ٹرانزیکشنز کو "ہائی رسک" قرار دے کر اس پر سخت نگرانی کا آغاز کر دیا ہے۔
فنانس ایکٹ 2025 کے تحت ایسی کیش ٹرانزیکشنز پر خودکار ٹریکنگ اور مانیٹرنگ سسٹم لاگو کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد ٹیکس چوری اور غیر قانونی مالیاتی لین دین کو روکنا ہے۔
20.79 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس لاگو
ایف بی آر ذرائع کے مطابق اگر کوئی فرد 2 لاکھ روپے سے زائد کی نقد رقم بینک میں جمع کرواتا ہے تو اس پر 20.79 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس لاگو ہو گا۔یہ ٹیکس فائلرز اور نان فائلرز دونوں پر لاگو ہوگا، تاہم فائلرز کے لیے کچھ ریلیف کی گنجائش موجود ہو سکتی ہے۔
بینکوں کو رپورٹنگ کا حکم
ایف بی آر نے تمام بینکوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ مقررہ حد سے زائد کیش ٹرانزیکشنز یا مشکوک مالی سرگرمیوں کی رپورٹنگ لازمی طور پر ایف بی آر کو فراہم کریں۔مزید برآں، ایسے افراد جن کی ٹرانزیکشنز مشکوک پائی جائیں، ان سے ثبوت اور وضاحت بھی طلب کی جا سکتی ہے۔
خودکار نگرانی کا نیا سسٹم
ایف بی آر نے دعویٰ کیا ہے کہ نیا خودکار نگرانی کا نظام مکمل طور پر فعال ہو چکا ہے، جو ہر بڑی نقد رقم کی منتقلی کو ریئل ٹائم میں مانیٹر کرے گا۔اس نظام سے بینک، نادرا اور دیگر ادارے منسلک ہوں گے تاکہ ڈیٹا شیئرنگ میں شفافیت اور مؤثر کارروائی ممکن ہو سکے۔
مقصد: ٹیکس نیٹ میں اضافہ
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد نہ صرف ٹیکس چوروں کی نشاندہی کرنا ہے بلکہ عوام کو فائلر بننے کی جانب بھی مائل کرنا ہے۔ایف بی آر کا کہنا ہے کہ جو لوگ فائلرز کی فہرست میں شامل ہوں گے، وہ اس سختی سے بڑی حد تک محفوظ رہیں گے۔