خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملنے کی کوشش اور ان کی حالیہ سیاسی سرگرمیوں سے متعلق ہے۔
ملاقات کی کوشش اور روکاوٹ: سہیل آفریدی اڈیالہ جیل پہنچے جہاں انہیں راولپنڈی پولیس نے داہگل ناکہ پر روک لیا۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی (عمران خان) میرا لیڈر ہے اور ان سے ملاقات کا میرا حق ہے، اس لیے میں یہاں آیا ہوں اور دیکھ رہا ہوں کہ اجازت ملتی ہے یا نہیں۔
کابینہ کی تشکیل اور سیاسی سرگرمیاں: سہیل آفریدی نے بتایا کہ انہوں نے عمران خان کے احکامات پر کابینہ کی تشکیل مکمل کر لی ہے اور جلد اعلان کریں گے۔ پہلے مرحلے میں 10 سے زائد ارکان پر مشتمل کابینہ بنے گی۔ وہ آئینی اور قانونی راستہ اختیار کر رہے ہیں اور ملاقات کے لیے کوشش جاری ہے۔
عدلیہ اور قانون کا معاملہ: انہوں نے کہا کہ جو انہیں روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان کو پتا ہوگا کہ انہیں مجھ سے کیا خوف ہے، اور اگر ہائیکورٹ سے تحریری آرڈر ملا تو وہ توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دو سال سے اپنے قائد سے ملاقات کے انتظار میں ہیں۔
تنقید اور سیاست: صحافی کے سوال پر کہ رانا ثنا اللہ ان پر تنقید کر رہے ہیں، انہوں نے جواب دیا کہ وہ مصروف ہیں اور سوشل میڈیا دیکھنے کا وقت نہیں، اور تنقید کرنے والے کو اسی کا حق ہے۔
کارکنوں اور شہدا کے حوالے سے خیالات: انہوں نے بتایا کہ انہوں نے شہید فوجی اہلکاروں کے جنازوں میں شرکت کی اور ان کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی کے میں دہشت گردی کے خلاف 80 ہزار جانوں کا نذرانہ دیا گیا ہے اور ان قربانیوں کا قدر کی جانی چاہیے۔
افغانستان سے متعلق سوالات: سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ان کی ہمدردی صرف اور صرف پاکستان کے ساتھ ہے، اور اگر پاکستان میں کوئی پالیسی بنتی ہے تو تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا چاہیے۔
این ایف سی ایوارڈ اور دیگر سیاسی امور: انہوں نے بتایا کہ انہیں کسی نے بھی این ایف سی ایوارڈ کے اجلاس میں شرکت کے لیے نہیں بلایا، اور اگر اجلاس ہو گا تو ضرور شامل ہوں گے تاکہ اپنے صوبے کا حق مانگ سکیں۔
سیکیورٹی اور راستہ روکنے کے حوالے سے: ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی کی بھیک نہیں مانگتے، اور کوئی بھی ان کا راستہ روکے، انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ عوامی مینڈیٹ سے آئے ہیں اور اسی سے رہیں گے۔
افغان مہاجرین کی واپسی: انہوں نے بتایا کہ اب تک آٹھ لاکھ افغان باشندوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے، اور باقی کا انخلا عزت اور وقار کے ساتھ جاری ہے۔
مجموعی طور پر، یہ خبر سہیل آفریدی کی سیاسی سرگرمیوں، عمران خان سے ملاقات کی کوشش، اور ان کے سیاسی موقف کو ظاہر کرتی ہے۔ وہ حکومتی روایات اور قانونی راستہ اپنانے کے ساتھ ساتھ، اپنی پارٹی اور عوام کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں۔