پی ٹی آئی رہنماؤں نے گزشتہ ایک سال میں 17 مرتبہ ہائی کورٹ اور 14 مرتبہ سپریم کورٹ کا دورہ کیا: بیرسٹر گوہر

پی ٹی آئی رہنماؤں نے گزشتہ ایک سال میں 17 مرتبہ ہائی کورٹ اور 14 مرتبہ سپریم کورٹ کا دورہ کیا: بیرسٹر گوہر

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹیرینز کل دوپہر 12 بجے اسلام آباد ہائی کورٹ جائیں گے تاکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے زیر التوا کیسز کی سماعت یقینی بنائی جا سکے۔

بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران وہ اور دیگر پی ٹی آئی رہنما 17 مرتبہ اسلام آباد ہائی کورٹ اور 14 مرتبہ سپریم کورٹ جا چکے ہیں، لیکن کیسز کی سماعت نہ ہونے کی وجہ سے شفاف انصاف فراہم نہیں ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود القادر کیس اور توشہ خانہ ٹو کیس ہائی کورٹ میں زیر التوا ہیں۔ القادر کیس میں 17 جنوری 2025 کو سزا سنائی گئی تھی، حالانکہ جوڈیشل پالیسی کے مطابق 35 سے 60 دن میں فیصلہ ہونا چاہیے تھا۔ بشریٰ بی بی کے کیسز بھی تاحال مقرر نہیں ہوئے۔سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کے حوالے سے بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی تک وکلا، اہلِ خانہ اور ڈاکٹر کو رسائی دینے کی درخواست دائر کی گئی ہے، جبکہ علاج سے متعلق ایک اور درخواست بھی فائل کر دی گئی ہے۔ سینئر وکیل لطیف کھوسہ کی جانب سے رجسٹرار سپریم کورٹ کو درخواست بذریعہ ڈاک جمع کرائی گئی، جس پر رجسٹرار کی طرف سے پیغام ملا ہے کہ درخواست لگا دی جائے گی۔

بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ آج وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بھی چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے روسٹرم پر گئے اور کیس مقرر کرنے کی درخواست کی، تاہم مثبت ردعمل نہیں ملا۔رجسٹرار کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ کیس کل اسلام آباد ہائی کورٹ میں مقرر کر دیا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کا واحد مطالبہ شفاف اور بروقت سماعت ہے تاکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے مقدمات جلد نمٹائے جائیں اور عدالت کے آرڈرز کے مطابق ان کی میڈیکل اور فیملی رسائی بھی ممکن ہو سکے۔یہ پیش رفت پی ٹی آئی اور سپریم کورٹ کے درمیان کیسز کے التواء اور قانونی کارروائیوں کے حوالے سے جاری کشیدگی کا حصہ ہے، جس میں پارٹی رہنماؤں اور وکلاء کی جانب سے مسلسل دائر کردہ درخواستیں اور عدالتوں کی کارروائیوں کا انتظار شامل ہے۔