آٹھویں بار بھی شرافت سے اڈیالہ آ رہا ہوں، عمران خان سے کیوں نہیں ملاقات دے رہے؟سہیل آفریدی

 آٹھویں بار بھی شرافت سے اڈیالہ آ رہا ہوں، عمران خان سے کیوں نہیں ملاقات دے رہے؟سہیل آفریدی

 وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے اڈیالہ روڈ پر پولیس کی بھاری نفری کے سامنے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقات کی کوشش کی، جہاں پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے پر روک دیا۔

 وزیراعلیٰ نے پولیس سے کہا کہ نفرتیں اور تلخیاں پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہیں، اور آٹھویں بار شرافت سے آ رہا ہوں۔سہیل آفریدی نے پولیس افسران سے استفسار کیا کہ گزشتہ بار بھی مجھے روکا گیا تھا، اور اس بار بھی کیوں روکا جا رہا ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر انہیں روکا گیا ہے تو تحریری طور پر بتایا جائے کہ کیوں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حالات کو زبردستی خراب کیا جا رہا ہے اور سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوامی نمائندہ روک دیا جائے گا تو یہ کسی صوبے کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ نفرتیں اور تلخیاں پاکستان کے لیے نقصان دہ ہیں، اور آٹھویں مرتبہ شرافت سے آ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پشاور سے اڈیالہ آنا جانا آسان بات نہیں اور لوگوں کو احتیاط کرنی چاہیے۔میڈیا سے گفتگو میں، سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم نے تمام قانونی اور جمہوری راستے اپنائے ہیں، اور میں دھرنے میں آنا چاہتا تھا مگر بانی کی بہنوں نے منع کیا۔

 انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے، اور بانی کی ہدایت پر مذاکرات ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 8 فروری کا واقعہ 23 نومبر کے واقعے جیسا ہے، اور عوام کا جمہوریت پر سے بھروسہ کم ہو رہا ہے۔ حالیہ ضمنی انتخاب میں 95 فیصد لوگ ووٹ دینے سے گریزاں رہے، اور عوامی نمائندوں سے بھی خدشات ہیں۔سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں، اور آئی ایم ایف نے موجودہ حکومت کے خلاف چارج شیٹ پیش کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کرپشن پر بات ہونی چاہیے، کیونکہ یہ عوام کا پیسہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور نوجوان پاکستان چھوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈال رہے ہیں، ان سے بھی سوال ہوگا۔ وہ این ایف سی کے اجلاس میں حصہ لیں گے، حالانکہ حکومت نے چار مرتبہ اجلاس ملتوی کیا ہے۔