شام میں خونریز جھڑپیں، 70 سے زائد ہلاک، حکومت اور اسد حامیوں کے درمیان جنگ شدت اختیار کر گئی

شام میں خونریز جھڑپیں، 70 سے زائد ہلاک، حکومت اور اسد حامیوں کے درمیان جنگ شدت اختیار کر گئی

شام میں حکومتی فورسز اور بشار الاسد کے حامی جنگجوؤں کے درمیان شدید جھڑپوں میں 70 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ جھڑپیں شمالی ساحلی علاقے لاذقیہ اور جبیلہ میں ہوئیں، جہاں اسد کے حامی جنگجوؤں نے اچانک حکومتی چیک پوسٹوں اور فوجی ٹھکانوں پر حملہ کر دیا۔ ان حملوں میں 48 افراد ہلاک ہوئے اور یہ حملے بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد کے سب سے شدید حملے قرار دیے جا رہے ہیں۔حکومت نے جوابی کارروائی کے طور پر فضائی حملے کیے اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بمباری کی۔ اس دوران، شامی فضائیہ کے سابق انٹیلی جنس سربراہ جنرل ابراہیم ہوویجہ کو گرفتار کر لیا گیا، جو اسد اور ان کے والد حافظ الاسد کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے۔ ان حملوں میں بشار الاسد کے قریبی کمانڈر سحیل الحسن کے حامی بھی شامل تھے، جو حکومت کے خلاف بغاوت کر چکے ہیں۔شام کی حکومت نے لاذقیہ، طرطوس اور حمص میں کرفیو نافذ کر دیا ہے اور فوجی کمک بھیج دی ہے۔ ان جھڑپوں کے نتیجے میں ملک کی خانہ جنگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، اور ان حملوں کو ملک کے موجودہ بحران کا سب سے خطرناک حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔